واٹس ایپ چلتا ہے نہ آن لائن کاروبار! جانتے ہیں شام 7 سے رات 11 بجے کے دوران انٹرنیٹ سست کیوں ہو جاتا ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

Here’s Why Internet Slows Down Between 7PM and 11PM
FILE PHOTO

پاکستان میں انٹرنیٹ کی رفتار ایک بار پھر شام کے اوقات میں شدید متاثر ہو رہی ہے جس کی بنیادی وجوہات دو زیرِ سمندر کیبلز میں آنے والے بیک اینڈ تکنیکی مسائل اور باقی ماندہ بین الاقوامی کیبلز پر بڑھتی ہوئی ڈیٹا ٹریفک بھیڑ بتائی جا رہی ہیں۔

انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والے اداروں اور موبائل آپریٹرز کے نیٹ ورکس پر شام 7 بجے سے رات 11 بجے کے درمیان انٹرنیٹ کی رفتار میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے جس کے باعث انفرادی صارفین کے ساتھ ساتھ کاروباری ادارے بھی متاثر ہو رہے ہیں، خاص طور پر وہ کمپنیاں جو امریکا اور یورپ میں موجود کلائنٹس کے ساتھ براہِ راست کام کر رہی ہیں۔

صارفین کی شکایات کے مطابق انٹرنیٹ کی اس سستی کی وجہ سے لائیو اسٹریمنگ، آن لائن گیمنگ، ویڈیو کانفرنسنگ، ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارمز، بڑے ڈاؤن لوڈز، بینکنگ ٹرانزیکشنز اور دیگر زیادہ بینڈوڈتھ استعمال کرنے والی خدمات شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ اس صورتحال نے پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی کال سینٹر انڈسٹری کو بھی بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔

کال سینٹر ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سینئر نائب صدر نبیل اختر کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کی ہر گھنٹے کی بندش کروڑوں ڈالر کے مالی نقصان کا باعث بنتی ہے، اور اس سے غیر ملکی کلائنٹس کے ساتھ معاہدے ختم ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ کال سینٹرز بجلی بندش کے دوران مختلف بیک اپ آپشنز استعمال کرتے ہیں، لیکن انٹرنیٹ کے بنیادی ڈھانچے کے لیے متبادل نظام موجود نہیں ہے اور ایسا کوئی سسٹم انفرادی طور پر تیار بھی نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والے اداروں کو ہدایت دے کہ وہ فوری طور پر مضبوط اور پائیدار ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کریں تاکہ پاکستان کی کال سینٹر انڈسٹری اور زرمبادلہ کے اس اہم ذریعہ کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

کو ورکنگ اسپیس کے مالک عابد بیلی نے بتایا کہ سست انٹرنیٹ کی وجہ سے ان کے دفاتر کی خدمات بری طرح متاثر ہو رہی ہیں، جس کا سب سے زیادہ نقصان فری لانسرز اور چھوٹے کاروباروں کو ہو رہا ہے۔

ان کے مطابق کئی کو ورکنگ اسپیسز کو اب نیٹ ورک سوئچز اور خصوصی سافٹ ویئر میں اضافی سرمایہ کاری کرنا پڑ رہی ہے تاکہ اپنے کلائنٹس کے لیے انٹرنیٹ کا معیار برقرار رکھا جا سکے۔

انہوں نے مشورہ دیا کہ حکومت کو پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز متعارف کرانی چاہئیں تاکہ زیرِ سمندر کیبلز میں خرابی کی صورت میں انٹرنیٹ کے تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے۔

Related Posts