کراچی میں منکی پاکس کا ایک مشتبہ کیس رپورٹ ہوا ہے، اسپتال انتظامیہ کے مطابق متاثرہ بچہ حال ہی میں سعودی عرب سے واپس آیا تھا اور اس میں بیماری سے مشابہ علامات ظاہر ہوئی ہیں۔
سندھ انسٹیٹیوٹ آف انفیکشن ڈیزیزز اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر واحد راجپوت کے مطابق تیرہ سالہ بچے میں تیز بخار، جسم پر زخم اور دانوں جیسی علامات دیکھی گئی ہیں جو منکی پاکس سے مشابہ ہیں۔متاثرہ بچے کو مکمل طور پر آئسولیشن وارڈ میں رکھا گیا ہے۔
اسپتال انتظامیہ کے مطابق بچے کے نمونے ڈاؤ یونیورسٹی کی لیبارٹری بھیج دیے گئے ہیں اور رپورٹ موصول ہونے کے بعد ہی بیماری کی حتمی تصدیق کی جائے گی۔
ڈاکٹر واحد راجپوت کا کہنا ہے کہ اس وقت احتیاطی تدابیر کے طور پر اسپتال میں عملے کو خصوصی حفاظتی اقدامات اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے جبکہ مریض کے اہلِ خانہ کو بھی قرنطینہ میں رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق منکی پاکس وائرس کی دو اقسام ہیں ،ایک وسطی افریقی اور دوسری مغربی افریقی۔ وسطی افریقی منکی پاکس وائرس عام طور پر زیادہ شدید انفیکشن کا باعث بنتا ہے جبکہ مغربی افریقی وائرس اموات کی زیادہ شرح سے منسلک سمجھا جاتا ہے۔
طبی ریکارڈ کے مطابق منکی پاکس 1958 میں اس وقت دریافت ہوا جب تحقیق کے لیے استعمال ہونے والے بندروں میں چیچک جیسی بیماری پھیل گئی تھی۔ بعدازاں 1970 میں افریقہ میں اس بیماری نے ہزاروں افراد کو متاثر کیا۔
ماہرین کے مطابق منکی پاکس عام طور پر فلو جیسی علامات سے شروع ہوتا ہے، جن میں بخار، سر درد، پٹھوں میں درد اور شدید تھکن شامل ہیں۔
بخار کے ایک سے تین دن بعد مریض کے جسم پر دانے ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں، جو سر سے ہاتھوں، پیروں اور پھر جسم کے دیگر حصوں تک پھیل جاتے ہیں۔ ان دانوں کے چھالوں میں بدلنے اور ان میں سفید رنگ کے سیال بھرنے کی شکایت بھی دیکھی جاتی ہے۔
یہ وائرس جسم میں داخل ہو کر سب سے پہلے اندرونی اعضاء کو متاثر کرتا ہے اور بعض صورتوں میں جلد پر شدید جلن اور زخم بھی پیدا کرتا ہے۔
اگرچہ منکی پاکس کا کوئی خاص علاج تاحال دریافت نہیں ہوا تاہم ماہرین کے مطابق چیچک کے خلاف تیار کردہ کچھ ویکسین اور دوائیں اس بیماری کے علاج میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
منکی پاکس وائرس چیچک پیدا کرنے والے آرتھوپوکس وائرس کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے، جس کے باعث دونوں بیماریوں میں کئی طبی مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔
چیچک جہاں تقریباً 30 فیصد اموات کا باعث بنتا تھا، وہیں منکی پاکس سے متاثرہ افراد میں اموات کی شرح عموماً 1 سے 3 فیصد تک ریکارڈ کی گئی ہے۔
محکمہ صحت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی شخص میں بخار، دانے یا جسم پر زخم جیسی علامات ظاہر ہوں تو وہ فوری طور پر قریبی معالج یا اسپتال سے رجوع کرے تاکہ بروقت تشخیص اور علاج ممکن بنایا جا سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








