سخت گیر طالبان انتظامیہ نے ہرات کے مرکزی زونل اسپتال کے دروازے خواتین پر بند کر دیے، برقع کی پابندی نہ کرنے کی آڑ میں خواتین ڈاکٹرز کو بھی اسپتال سے نکال دیا۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان نے درجنوں خواتین جن میں مریض، طبی عملہ اور عام مریض شامل تھیں کو اسپتال کے اندر جانے سے روکا کیونکہ ان کے پاس برقع نہیں تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق طالبان اہلکاروں نے ان میں سے بعض خواتین کو مارا پیٹا۔
افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق موصول ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بڑی تعداد میں خواتین اسپتال کے باہر کھڑی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر نے مکمل اسلامی حجاب پہنا ہوا ہے، لیکن طالبان صرف ان خواتین کو اندر جانے کی اجازت دیتے ہیں جنہوں نے روایتی برقع اوڑھا ہو۔
ہرات اسپتال کی ایک خاتون ڈاکٹر کے مطابق ہم وہ عورتیں ہیں جو انسانیت کی خدمت کے لیے نکلیں، نہ کہ جبر کے پردے میں چھپنے کے لیے۔ میں روز دوسروں کے زخموں پر مرہم رکھتی ہوں، مگر میرے دل کے زخم بڑھتے جا رہے ہیں، کیونکہ ہمیں مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
ایک اور ذریعے نے بتایا کہ طالبان نے ہرات کے محکمۂ شماریات (رجسٹریشن آفس) میں بھی آج خواتین کو بغیر برقع داخل ہونے نہیں دیا۔
خاتون ڈاکٹر نے مزید کہا کہ ہم برقع پہننے پر مجبور ہیں، یہ ہمارا انتخاب یا عقیدہ نہیں بلکہ حکم اور جبر ہے۔
طالبان نے گزشتہ چار برسوں میں افغان خواتین پر بے شمار پابندیاں عائد کی ہیں۔ انہوں نے چھٹی جماعت سے اوپر کی تعلیم پر پابندی لگا رکھی ہے، خواتین کا بغیر محرم باہر نکلنا یا سفر کرنا غیرقانونی قرار دیا ہے اور “امر بالمعروف” کے قانون کے تحت عورت کی آواز کو بھی “عورت” کہہ کر خاموش کرانے کی کوشش کی ہے۔
طالبان پہلے ہی اسپتالوں میں خواتین اور مردوں کے شعبے الگ کر چکے ہیں اور ان کے درمیان رابطے یا بات چیت پر پابندی لگا رکھی ہے۔ اب برقع کے بغیر خواتین کو اسپتال میں داخل نہ ہونے دینا طالبان کی خواتین پر تازہ ترین قدغن ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








