پاکستان میں روس کے سفارت خانے نے پاکستانی انگریزی اخبار فرنٹیئر پوسٹ میں شائع ہونے والے روس مخالف مضامین پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے جبکہ روزنامہ غیر جانبدار خبروں کو نظرانداز کرتا ہے۔
پاکستان میں روس کے سفارت خانے کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اخبار پاکستانی اخبار کے بجائے واشنگٹن میں قائم بین الاقوامی خبروں کی سروس کے زیر اثر ہے جو ہمیشہ روس مخالف مصنفین کو ترجیح دیتا ہے اور روس یا صدر ولادیمیر پوتن کی مثبت یا غیر جانبدار خبروں کو نظرانداز کرتا ہے۔
ہم نے انگریزی زبان کے پاکستانی اخبار فرنٹیئر پوسٹ میں شائع ہونے والے روس مخالف مضامین کے سلسلے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کا نوٹس لیا گیا ہے۔ سب سے پہلے ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اس اشاعت کو بمشکل ہی “پاکستانی” کہا جا سکتا ہے، کیونکہ اس کی بین الاقوامی خبروں کی سروس… pic.twitter.com/6vaePgTtqF
— Embassy of Russia in Pakistan (@RusEmbPakistan) November 6, 2025
سفارت خانے کے مطابق اخبار نے افغانستان سے متعلق اہم ترین اجلاس جیسے ماسکو فارمیٹ مشاورت کو مکمل طور پر نظرانداز کیا حالانکہ یہ اجلاس پاکستانی میڈیا میں کافی کوریج حاصل کر چکا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اخبار علاقائی امور پر پاکستان کے موقف کو اجاگر کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا اور اس کے روس مخالف رجحان کا اثر نمایاں ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ روس مخالف مواد میں اکثر مغربی پروپیگنڈے جیسے کہ کمزور معیشت یا مغربی فوجی برتری کے گھسے پٹے بیانیے دہرا کر پیش کیے جاتے ہیں۔
روس کے سفارت خانے نے وضاحت کی کہ حقیقت میں روس کی معیشت پائیدار ترقی کر رہی ہے 2024 میں جی ڈی پی میں 4.1 فیصد اضافہ ہوا، صنعتی ترقی کی شرح 8.5 فیصد، بے روزگاری صرف 2.5 فیصد اور متوقع افراطِ زر 6.5 تا 7 فیصد ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ روس نے جدید کروز میزائل بریویستنک اور بغیر عملے کی کثیرالمقاصد آبدوز پوزیڈن کے کامیاب تجربات کیے ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ مغربی ممالک کی فوجی برتری کے دعوے بے بنیاد ہیں۔
روسی سفارت خانے کے بیان میں پاکستانی عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ خبریں مختلف معتبر ذرائع سے حاصل کریں اور ایسے اداروں پر بھروسہ نہ کریں جو غیر ملکی طاقتوں کے سیاسی مفادات کی تکمیل میں سرگرم ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








