بھارت کے مقبول ریئلٹی شو بگ باس ایک بار پھر تنازع کی زد میں ہے، سوشل میڈیا اور شوبز حلقوں میں یہ تاثر تیزی سے پھیل رہا ہے کہ یہ شومنحوس یابدقسمتی کا شکار ہے کیونکہ اس میں حصہ لینے والے متعدد شرکاء نے کم عمری میں جان گنوائی یا شدید ذہنی و نفسیاتی مسائل کا سامنا کیا۔
یہ خیال محض افواہ نہیں بلکہ ان واقعات کی بنیاد پر ہے جن میں کئی سابق شرکاء کی اچانک اموات یا ذہنی دباؤ کے باعث زندگیوں میں بحران دیکھنے میں آئے۔ اگرچہ کچھ لوگ ان واقعات کو اتفاق قرار دیتے ہیں، لیکن ان حادثات نے بگ باس کے نفسیاتی اثرات پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
مشہور شخصیات جیسے سدھارتھ شکلا، پرتوشا بنرجی، سونالی پھوگاٹ اور شیفالی جریوالا کی اموات نے شائقین اور بعض فنکاروں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کہیں بگ باس واقعی منحوس تو نہیں۔
شو کے سابق شرکاء نے کھلے عام یہ تسلیم کیا ہے کہ بگ باس کے گھر میں زندگی گزارنا آسان نہیں۔ مسلسل تنازعات، دباؤ، الگ تھلگ رہنے کا احساس، اور عوامی تنقید کا سامنا انہیں ذہنی طور پر توڑ دیتا ہے۔ کچھ شرکاء نے خود بتایا کہ شو کے بعد انہیں ڈپریشن، گھبراہٹ اور خودکشی کے خیالات تک کا سامنا کرنا پڑا۔
اگرچہ یہ شو مختصر مدت کے لیے شہرت اور پہچان ضرور دیتا ہے، مگر کئی شرکاء کا کہنا ہے کہ بعد میں مستقل روزگار اور شوبز میں جگہ برقرار رکھنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے بعض لوگ اسے کیرئیر کا عذاب یا بدقسمتی بھی کہنے لگے ہیں۔
شائقین، ماہرین اور کچھ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ ان اموات کو شو سے براہِ راست منسلک کرنا درست نہیں۔ ان کے مطابق یہ حادثات صحت کے مسائل، طرزِ زندگی یا اتفاقی واقعات کا نتیجہ ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نفسیات کے مطابق بگ باس جیسے ریئلٹی شوز کا ڈیزائن ہی جذباتی دباؤ، جھگڑوں، اور تنازعات کو بڑھا کر ناظرین کو متوجہ کرنے پر مبنی ہے جس سے شرکاء کے ذہنی توازن پر گہرا اثر پڑتا ہے۔
بالآخر، بگ باس کی بددعا کا تصور ایک سنسنی خیز قیاس آرائی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ شو جہاں مقبولیت اور موقع فراہم کرتا ہے، وہیں اس کے دباؤ اور مسابقتی ماحول نے کئی زندگیوں پر گہرے منفی اثرات ڈالے ہیں مگر اسے منحوس قرار دینا سائنسی اور سماجی لحاظ سے درست نہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








