طالبان حکومت نے کئی دن کی کشیدہ صورتحال کے بعد بالآخر خواتین ڈاکٹروں اور نرسوں کو ڈیوٹی کے دوران ٹوپی برقع پہننے پر مجبور کردیا۔
افغان میڈیا کے مطابق رپورٹ کیا ہے کہ ہرات کے اسپتال سے موصولہ ویڈیوز اور تصاویر میں خواتین ڈاکٹرز اور نرسوں کو ٹوپی برقع پہن کر بچوں کو ویکسین لگاتے دیکھا جاسکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق طالبان انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ ہرات میں مریض خواتین کو بھی بغیر برقع اسپتالوں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔
طالبان کے سرکاری محکمہ امر بالمعروف اور ہرات کی طالبان انتظامیہ نے گزشتہ ہفتے حکم دیا تھا کہ اب سے خواتین بغیر برقع کے اسپتالوں اور عوامی خدمات فراہم کرنے والے اداروں میں داخل نہیں ہو سکتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حالیہ دنوں میں ہرات میں شہریوں کی رجسٹریشن کے دفتر میں بھی بغیر برقع والی خواتین کو داخل ہونے سے روک دیا گیا تھا۔
علاوہ ازیں جمعہ کے روز طالبان کے حج و اوقاف کے حکام نے خطیبوں اور واعظوں کو ہدایت دی کہ جمعہ کے خطبہ میں ڈرائیوروں سے کہیں کہ وہ ان خواتین کو جو برقع نہیں پہنتیں، اپنی گاڑیوں میں نہ سوار کریں۔ ہرات میں طالبان کے حکام نے ڈرائیوروں کو خبردار کیا ہے کہ خواتین کو بغیر برقع گاڑی میں لے جانے کی صورت میں سزا دی جائے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








