“ساڑھی کسی ملک کی نہیں، ہماری مشترکہ ثقافتی ملکیت ہے” مس یونیورس پاکستان کا اعتراض کرنے والوں کو جواب

تازہ ترین

تازہ ترین

پاکستانی حسینہ رومہ ریاض، فائل فوٹو

تھائی لینڈ میں ہونے والے مس یونیورس 2025 کے عالمی مقابلے میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی رومہ ریاض نے ساڑھی پہننے پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ ساڑھی جنوبی ایشیا کا مشترکہ ثقافتی ورثہ ہے، جو کسی ایک ملک کی ملکیت نہیں۔
رومہ ریاض 21 نومبر کو تھائی لینڈ میں ہونے والے مس یونیورس مقابلے میں پاکستان کی نمائندگی کریں گی۔ پری ایونٹ تقریب کے دوران انہوں نے معروف پاکستانی فیشن ڈیزائنر کنول ملک کے تیار کردہ چمکدار چاندی رنگ کی ساڑھی زیبِ تن کی، تاہم چونکہ ساڑھی کو عام طور پر بھارت کا روایتی لباس سمجھا جاتا ہے، اس لیے کچھ سوشل میڈیا صارفین نے ان کے لباس کے انتخاب پر اعتراض کیا۔

انسٹاگرام پر جاری بیان میں رومہ ریاض نے کہا کہ ساڑھی سرحدوں سے ماورا ہے اور جنوبی ایشیا کی مشترکہ تہذیبی تاریخ میں گہری جڑیں رکھتی ہے۔

انہوں نے لکھا کہ “ساڑھی کسی ایک قوم کی نہیں، یہ ہمارا مشترکہ ورثہ ہے، جو اُس وقت سے وجود میں ہے جب ہمارے درمیان کوئی سرحدیں نہیں تھیں۔”

رومہ ریاض کے مطابق ساڑھی کی ابتدا وادیٔ سندھ کی سرزمین سے ہوئی، وہی دھرتی جہاں کبھی ہمارے آبا و اجداد بستے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ساڑھی اتنی ہی پاکستانی ہے جتنی شلوار قمیض، کیونکہ یہ نسل در نسل پاکستانی خواتین کے لباس کا حصہ رہی ہے، جو پرانے خاندانی فوٹوگرافز، فلموں اور عوامی تقریبات میں بھی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ “میں کسی کو بھی اپنی ثقافتی شناخت مٹانے کی اجازت نہیں دوں گی۔”

رومہ ریاض نے اپنے بیان کے ساتھ پاکستان کے ماضی سے متعلق متعدد تاریخی حوالہ جات بھی شیئر کیے، جن میں 1969 کا ایک اخباری تراشہ شامل ہے جس میں لکھا گیا کہ پاکستانی خواتین مغربی لباس کے مقابلے میں اب بھی ساڑھی کو ترجیح دیتی ہیں۔ انہوں نے اردو رسائل کے پرانے صفحات، نصرت بھٹو اور گلوکارہ مالا بیگم کی ساڑھی میں تصاویر بھی شیئر کیں۔

ریڈ کارپٹ پر اپنے لباس کے بارے میں رومہ نے لکھا کہ ساڑھی ایک لازوال لباس ہے جو نزاکت، نسائیت اور شناخت کی علامت ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ ان کا لباس پاکستانی ہنر، مقامی ڈیزائنرز کی تخلیقی صلاحیت، اور ان خواتین کو خراجِ تحسین ہے جو جدید دور میں بھی اپنی روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

Related Posts