آج جمعہ14 نومبر 2025 کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں عالمی یوم ذیابیطس منایا جا رہا ہے تاکہ اس بیماری کے بارے میں شعور اجاگر کیا جا سکے۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ پہلے ذیابیطس کی شرح کم تھی مگر غفلت اور غیر صحت مند طرزِ زندگی کے باعث کیسز میں تیزی سے اور خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔
ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستان کے نوجوانوں میں ذیابیطس کی تیزی سے بڑھتی شرح براہِ راست کئی طرزِ زندگی کے عوامل سے جڑی ہے، جن میں روزانہ ورزش کو معمول میں شامل نہ کرنا، سست اور غیر متوازن زندگی گزارنا، ذہنی دباؤ اور تناؤ میں مسلسل مبتلا رہنا اور متوازن و صحت مند غذا نہ کھانا شامل ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ذیابیطس صرف شوگر کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ کئی اہم اعضاء کو متاثر کرتی ہے۔
اس سے گردوں کی کارکردگی شدید متاثر ہوتی ہے، بینائی پر اثر پڑتا ہے اور دل کی بیماریوں اور بلند فشارِ خون کے خطرات میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ افراد کو دیگر متعدد سنگین اور جان لیوا بیماریوں کے لیے بھی آسان شکار بنا دیتی ہے۔
ماہرین نے بیماری پر قابو پانے کے لیے کچھ اہم اقدامات تجویز کیے ہیں، جن میں روزانہ ورزش کرنا یا کم از کم 30 منٹ کی تیز چلنا لازمی قرار دینا، دن بھر جسمانی طور پر فعال رہنا، ذہنی دباؤ اور تناؤ سے دور رہنے کی کوشش کرنا اور متوازن و صحت مند غذا کا استعمال کرنا شامل ہیں۔
ماہرین صحت کے مطابق صرف طرزِ زندگی میں فوری اور ضروری تبدیلیاں لا کر ہی افراد اس خاموش وبا سے اپنی حفاظت کر سکتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








