بھارت کے زیر انتظام مقبوضہ کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں پولیس اسٹیشن میں ذخیرہ شدہ دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے کم از کم 9 افراد ہلاک اور 29 زخمی ہو گئے۔دھماکہ نوگام علاقے میں ہوا جہاں پولیس اور فرانزک ٹیم پہلے سے ایک گزشتہ دھماکے کی تحقیقات کر رہی تھی۔
ذرائع کے مطابق دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ قرب و جوار کے گھروں سے بھی انسانی اعضا ملے۔ زیادہ تر ہلاک ہونے والے افراد پولیس اور فرانزک ٹیم کے اہلکار تھے جبکہ دو سری نگر انتظامیہ کے اہلکار بھی جاں بحق ہوئے۔ پانچ افراد کی حالت نازک ہے اور ہلاکتوں میں اضافہ کا خدشہ ہے۔
پولیس نے واضح کیا کہ یہ کوئی دہشتگرد حملہ نہیں بلکہ ایک افسوسناک حادثہ تھا۔ دھماکہ اس وقت ہوا جب ٹیم ذخیرہ شدہ دھماکہ خیز مواد کی جانچ کر رہی تھی۔
#BREAKING: J&K Police Top Officials tell me that the massive blast at Nowgam Police Station around 11:20pm tonight happened when FSL team along with Police and Tehsildar were inspecting the large Ammonium Nitrate explosive which was confiscated earlier. Casualties in the blast.… pic.twitter.com/67U143jOFg
— Aditya Raj Kaul (@AdityaRajKaul) November 14, 2025
یہ دھماکہ نئی دہلی میں حالیہ کار دھماکے کے چند دن بعد ہوا جس میں کم از کم 12 افراد ہلاک ہوئے تھے اور جسے دہشت گرد حملہ قرار دیا گیا۔ نئی دہلی کے حملے کے بعد پولیس نے کئی افراد کو گرفتار کیا اور دھماکہ خیز مواد اور اسلحہ ضبط کیاجنہیں پاکستان میں موجود جہاد گروپ جیش محمد اور اس کے شاخ انصار غزوات الحق سے جوڑا گیا۔
پولیس نے بتایا کہ نوگام اسٹیشن میں ہونے والے دھماکے سے قبل جہادی پوسٹرز کی تحقیقات کر رہی تھی جن میں سکیورٹی اہلکاروں اور غیر مقامی افراد کے خلاف حملوں کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔
تحقیقات سے ایک وائٹ کالر دہشت گرد نیٹ ورک سامنے آیا جس میں پڑھے لکھے افراد اور طلبہ شامل تھے جو غیر ملکی مددگاروں سے رابطے میں تھے اور بھارت میں بڑے حملے کی تیاری کر رہے تھے۔ پولیس نے تقریباً 3 ٹن دھماکہ خیز مواد بھی قبضے میں لیا۔
کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان تقسیم شدہ علاقہ ہے اور دونوں ملک اس پر دعویٰ کرتے ہیں۔ 1947 کے بعد سے دونوں ممالک کشمیری سرحد پر تین جنگیں لڑ چکے ہیں اور علاقہ میں کشیدگی اب بھی برقرار ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








