ایران کی بڑی کارروائی، بین الاقوامی سمندر سے آئل ٹینکر ضبط، وجہ کیا ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

علامتی تصویر

ایرانی پاسداران انقلاب نے خلیج عرب میں ایک آئل ٹینکر کو اس وقت قبضے میں لے لیا جب وہ یو اے ای کی بندرگاہ سے روانگی کے بعد سمندر میں سفر کر رہا تھا۔ 

ایرانی سپاہِ پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ روز صبح کے وقت ایک عدالتی حکم کے بعد ’تلارا‘ نامی تجارتی آئل ٹینکر، جو مارشل آئی لینڈز کے جھنڈے تلے سفر کر رہا تھا، کی کارگو ضبط کرنے کا حکم دیا گیا۔ بحریہ کی تیز رفتار ردعمل یونٹس نے اس کی نگرانی کی، اسے روکا اور قبضے میں لے لیا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ٹینکر غیر قانونی کارگو لے جانے کے باعث قانون کی خلاف ورزی کر رہا تھا۔ ٹینکر میں 30 ہزار ٹن پیٹرو کیمیکل کارگو موجود تھا اور وہ سنگاپور جا رہا تھا۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق یہ کارروائی کسی دوسرے ملک کے خلاف قدم نہیں بلکہ مکمل طور پر ایک مقامی معاملہ ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ضبط شدہ کارگو ایرانی پیٹرو کیمیکل مصنوعات پر مشتمل تھا، جسے غیر قانونی طور پر برآمد کیا جا رہا تھا اور اس کا اصل ذمہ دار ایک ایرانی شخص یا کمپنی تھی۔

امریکی میری ٹائم سیکیورٹی کمپنی امبری کے مطابق یہ بحری جہاز متحدہ عرب امارات کے شہر عجمان سے روانہ ہوا تھا اور آبنائے ہرمز سے جنوب کی طرف بڑھ رہا تھا جب تین چھوٹی کشتیوں نے اسے قریب سے گھیر لیا، جس کے بعد اس نے اچانک اپنا راستہ تبدیل کر لیا۔

امریکی بحریہ نے پہلے ہی کہا تھا کہ وہ اس صورتحال کی “فعال نگرانی” کر رہی ہے۔

امریکا کے پانچویں فلیٹ، جو اس خطے میں گشت کرتا ہے، نے کہا کہ “تجارتی جہازوں کو بین الاقوامی سمندروں میں آزادانہ تجارت اور گزرگاہ کا حق حاصل ہے۔”

آبنائے ہرمز، جو عالمی سطح پر تیل اور مائع قدرتی گیس کی نقل و حمل کا نہایت اہم راستہ ہے، اس سے قبل بھی ایسے ہی واقعات کا مرکز رہ چکی ہے۔

گزشتہ سال بھی پاسداران انقلاب نے ایک کنٹینر جہاز قبضے میں لیا تھا، جس کے بارے میں کہا گیا تھا کہ اس کے اسرائیل سے روابط ہیں۔ یہ کارروائی شام میں ایران کے قونصل خانے پر ہونے والے ایک مہلک حملے کے بعد کی گئی تھی، جس کا الزام ایران نے اسرائیل پر لگایا تھا۔

Related Posts