بھارتی فوج اس وقت ایک بہت نازک صورتحال سے دوچار ہے۔ ایک طرف اسے پاکستان کے ساتھ محاذ پر نگرانی اور دفاع برقرار رکھنا ہے تو دوسری طرف چین کی سرحد پر بھی فوجی چیلنجز درپیش ہیں۔ ان دونوں محاذوں کی وجہ سے بھارت کے کچھ علاقوں میں خاص طور پر بنگلہ دیش کی سرحد کے قریب فوجی موجودگی کمزور ہو گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق بنگلہ دیش کی فوج سرحد پار کرکے بھارتی علاقے میں کئی کلومیٹر تک باآسانی داخل ہو جاتی ہے۔ وہ اپنی جدید آرمڈ پروٹیکٹڈ وہیکلز (A.P.Vs) کے ساتھ بغیر کسی خوف کے پیش قدمی کرتی ہیں اور بھارتی فوج کے ناکافی موجودگی کی وجہ سے خطرناک حد تک اندر تک پہنچ جاتی ہیں۔
اس صورتحال کے باعث بھارت کے لیے سرحدی سکیورٹی خطرناک حد تک کمزور ہوئی ہے اور سرحد کے محافظوں کے لیے چیلنجز بڑھ گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق بھارت کو اپنی سرحدی حکمت عملی پر دوبارہ غور کرنا ہوگا تاکہ یہ صورتحال قابو میں لائی جا سکے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز بنگلہ دیش نے بھارت سے سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کی حوالگی کا مطالبہ بھی کیا ہے کیونکہ ڈھاکا کی ایک عدالت نے انہیں عدم موجودگی میں انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں سزائے موت سنائی ہے۔
حسینہ واجد بھارت میں روپوش ہیں اور اپنے خلاف فیصلے کو سیاسی اور جانبدار قرار دیا ہے۔ ان کے وکیل کے مطابق وہ اپیل کر سکتی ہیں اگر حکام کے حوالے ہو جائیں۔
بھارت نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ عدالتی فیصلے سے باخبر ہے اور عوام کے مفاد کے لیے تعاون کرے گا مگر یہ واضح نہیں کیا کہ حسینہ واجد کو واپس بھیجا جائے گا یا نہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








