توہینِ مذہب کے مقدمے میں مقامی عدالت سے سزائے موت پانے والے 4ملزمان کی قسمت کھل گئی، لاہور ہائیکورٹ نے ملزمان کی اپیل منظور کرتے ہوئے ملزمان کو بری کردیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق یہ فیصلہ لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بینچ نے سنایا۔ چاروں ملزمان کو سیشن کورٹ نے ناموسِ رسالت ﷺ کی توہین کے مقدمے میں سزائے موت سنائی تھی۔ عدالت نے ملزمان کی اپیل منظور کرلی۔
اس سے قبل ملزمان کے خلاف وفاقی تحقیقاتی ادارے (سائبر کرائم سرکل)راولپنڈی نے گزشتہ ماہ (12 ستمبر کو) توہین رسالت کے ساتھ ساتھ پیکا ایکٹ عائد کرتے ہوئے متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔
سیشن کورٹ نے ملزمان کو سزائے موت سنائی جس پر ملزمان نے سیشن کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی۔ لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بینچ نے مقدمے کا فیصلہ ملزمان کے حق میں سنا کر انہیں باعزت بری کردیا۔
تشویشناک طور پر ملک کا عدالتی نظام نہ صرف مجرموں کو تحفظ فراہم کرتا ہے بلکہ بسااوقات بے گناہ افراد کو سزائے موت بھی سنا دیا کرتا ہے۔ ماضی میں بھی بے شمار سزائے موت پانے والے مجرم اعلیٰ عدالتوں سے اپیل کے ذریعے بری ہوچکے ہیں جس سے نظامِ انصاف کی پیچیدگیوں کا اندازہ کیاجاسکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








