لگتا ہے موت قریب ہے! مرنے سے پہلے کی اہم نشانیاں جنہیں ہم نظر انداز کردیتے ہیں

تازہ ترین

تازہ ترین

Humans May Sense Death Through Smell
ONLINE

دنیا بھر میں ایسے واقعات عام ہیں جن میں لوگ اپنے پیاروں کے آخری لمحات سے متعلق عجیب و غریب باتیں بیان کرتے ہیں۔

کچھ لوگ موت سے پہلے الوداع کہنے، پرانی رنجشیں ختم کرنے یا قیمتی چیزیں بانٹ دینے جیسے رویوں کا ذکر کرتے ہیں، جیسے انہیں پہلے ہی کسی بڑے واقعے کا احساس ہو۔

کچھ لوگ ان باتوں کو محض اتفاق سمجھتے ہیں جبکہ کچھ کے خیال میں انسان کو موت کے قریب آنے کا باطنی احساس ضرور ہوتا ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق جب کوئی شخص وفات پاتا ہے تو جسم فوری طور پر ٹوٹ پھوٹ کے عمل میں داخل ہو جاتا ہے۔ اس دوران ایک خاص کیمیائی مادہ پیوٹریسین پیدا ہوتا ہے جو شدید اور زہریلی بدبو کا سبب بنتا ہے۔

تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ انسان اس بدبو کو لاشعوری طور پر پہچان لیتا ہے اور یہ خوشبو دماغ میں فوری ردعمل پیدا کرتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ موت سے قبل کے عجیب رویوں کے پیچھے سائنس کی ایک دلچسپ توجیہہ موجود ہے، جو انسان کے اندر چھپے ان اشاروں کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جانور خطرات اور اپنے ماحول میں موجود قوتوں کو سونگھ کر پہچان لیتے ہیں اور اسی بنیاد پر ان کے رویے تبدیل ہوتے ہیں۔

یہی مماثلت انسانوں میں بھی پائی جا سکتی ہے۔ جو جدید تحقیق برطانیہ کی یونیورسٹی آف کینٹ کے اسکول آف سائیکالوجی کے آرنوڈ وِسمَن اور آرکنساس ٹیک یونیورسٹی کے شعبہ بیہیویئرل سائنسز کے اِلَن شیرا نے کی۔

یہ تحقیق اس بات پر مبنی ہے کہ مختلف جانداروں کی بقا میں خوشبو کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے اور انسان بھی اس اصول سے مستثنیٰ نہیں۔ خطرے کا احساس، یہاں تک کہ موت کا اشارہ بھی سونگھنے کی حس کے ذریعے محسوس کیا جا سکتا ہے۔

جدید مطالعات کے مطابق جسم کے سڑنے کے عمل میں پیوٹریسین نامی مرکب خارج ہوتا ہے۔ یہ بدبو انسان میں دوہرا ردعمل پیدا کرتی ہے، باشعوری اور لاشعوری۔ اس عمل کو سمجھنے کے لیے چار تجربات کیے گئے جن میں پیوٹریسین، امونیا اور پانی کو استعمال کرتے ہوئے انسانی ردعمل جانچا گیا۔

ایک تجربے میں جب پیوٹریسین کو مخصوص مقام پر چھوڑا گیا تو قریب موجود لوگوں نے فوراً اس جگہ سے دور جانا شروع کر دیا۔ یہ خطرے کے احساس پر پیدا ہونے والا وہی لڑو یا بھاگو والا ردعمل تھا جو جانوروں میں پایا جاتا ہے۔ انسان بھی جب خطرے کو سونگھتا ہے تو یا تو خطرے کا مقابلہ کرتا ہے یا فوراً پیچھے ہٹ جاتا ہے،اکثر اوقات انسان لڑائی سے پہلے فاصلے کو ترجیح دیتا ہے۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ بعض دیگر خوشبوئیں، جیسے خوف کی حالت میں نکلنے والے پسینے کی بو، بھی دوسروں میں خودکار اور چونکا دینے والا ردعمل پیدا کرتی ہیں۔ یہ بو محسوس کیے بغیر انسان کو زیادہ چوکس اور محتاط بنا دیتی ہے۔

ماہرین کے مطابق انسان اس بات سے ناواقف رہتا ہے کہ کیوں وہ کسی خوشبو کو پسند یا ناپسند کرتا ہے کیونکہ خوشبو جذبات، فیصلوں اور رویوں پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ یہ اثر اتنا طاقتور ہوتا ہے کہ انسان اسے شعوری طور پر محسوس بھی نہیں کرتا۔

تحقیق کے مطابق پیوٹریسین اور جنسی فیرومونز دونوں خوشبو کی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں مگر ان کے پیغام بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ فیرومونز ساتھی کو متوجہ کرنے کے سگنل ہوتے ہیں جبکہ پیوٹریسین خطرے، تنبیہ اور ممکنہ موت کی بو کا اشارہ دیتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ پیوٹریسین پر انسانی ردعمل، خوف، اجتناب اور بیزاری، فیرومونز کے بالکل الٹ ہوتے ہیں۔ماہرین کے مطابق انسان عام طور پر یہ بھی نہیں جان پاتا کہ وہ اس بدبو کی وجہ سے منفی ردعمل دے رہا ہے تاہم جسم فطری طور پر اسے خبردار کر رہا ہوتا ہے۔

Related Posts