وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے نوجوان نسل کی رہنمائی اور مثبت کردار سازی کے لیے صوبے کے تمام اسکولوں میں کردار سازی کی خصوصی کلاسوں کے آغاز کا حکم دے دیا ہے۔
یہ ہدایات انہوں نے منگل کے روز 6 گھنٹے طویل اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں جس میں پنجاب کے تمام محکموں کی کارکردگی اور جاری منصوبوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا۔
اجلاس میں رپورٹ کیا گیا کہ لاہور میں ایجوکیشن آن وھیل کے پائلٹ منصوبے کا آغاز کیا جا رہا ہے تاکہ تعلیم تک رسائی کو ہر راستے تک پہنچایا جا سکے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ پنجاب کے طلبہ کے لیے 50000 عالمی معیار کے کورسز گوگل اسکالرز کے ذریعے فراہم کیے جائیں گے۔
پنجاب کے 90 فیصد کالجوں میں مستقل پرنسپلز کی تقرری مکمل ہو چکی ہے جبکہ تعلیمی بورڈز کے چیئرمین، سیکریٹری اور کنٹرولر کی تقرری کے طریقہ کار کی اصولی منظوری دے دی گئی ہے۔
اسکول میل پروگرام کے تحت دودھ کی فراہمی نے اسکولوں میں داخلوں کی شرح میں 47 فیصد اضافہ کیا ہے۔ پنجاب میں 1اعشاریہ 1 ملین دودھ کے پیکٹس ری سائیکل کر کے 1اعشاریہ 5 ملین بینچ تیار کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
1600 کلاس رومز تیار ہو چکے ہیں جبکہ 22000 مزید کلاس رومز اگلے تین ماہ میں مکمل ہوں گے۔ پنجاب اسکول ریفارم پروگرام کے تحت ڈھانچے کی بہتری جاری ہے جس میں 500 سے زائد کلاس رومز، 3036 چھتوں اور 4377 ٹوائلٹس کی مرمت شامل ہے۔
صوبے بھر کے اسکولوں میں 23000 فرنیچر سیٹس اور 1643 واٹر ٹینکس فراہم کر دیے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ پنجاب کے گرلز کالجز کو فوری طور پر 44 بسیں فراہم کی جائیں۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ ہونہار اسکالرشپ اسکیم کے تحت 140000 طلبہ کو وظائف اور 110000 طلبہ کو لیپ ٹاپ دیے جائیں گے۔
مریم نواز نے کہا کہ پنجاب کے ہر نوجوان کے لیے تعلیم، ٹیکنالوجی اور تربیت، ہر مزدور کے لیے گھر اور ہر شہری کے لیے صحت مند ماحول یقینی بنایا جائے گا۔
اجلاس میں مختلف محکموں کی کارکردگی کا احتساب کیا گیا اور نئے منصوبے بھی شروع کیے گئے۔ تعلیم سے لے کر ماحولیات، جنگلات، وائلڈ لائف، ماہی پروری، سیاحت، آثار قدیمہ، کھیل اور محنت کشوں کے شعبوں تک ہر پہلو کا جائزہ لیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے پنجاب کی زبان کو تعلیم، ثقافت اور عوامی زندگی میں مرکزی حیثیت دینے کے لیے تاریخی اقدامات کی منظوری دی۔
مزید برآں جھنگ اور کمالیہ میں 20000 مزدوروں کو تین مرلہ پلاٹ فراہم کرنے کا منصوبہ منظور کیا گیا ہے۔ اپنی چھت اپنا گھر اسکیم کے تحت مزدوروں کو خصوصی قرضے دیے جائیں گے جبکہ منصوبے کی فوری تکمیل کے لیے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
وزیراعلیٰ نے ریلوے ٹریکس، سڑکوں اور نہروں کے ساتھ شجرکاری کی ہدایت کی تاکہ پنجاب کے ہر راستے کو سبز بنایا جا سکے۔
جنگلات کی حفاظت کے لیے جدید فائر الارمنگ سسٹم نصب کیا جائے گا جو کسی بھی جنگل میں آگ لگنے سے 20 منٹ قبل خبردار کرے گا۔ غیر قانونی درخت کاٹنے کی روک تھام کے لیے خصوصی سینسنگ سسٹم متعارف کرایا جائے گا۔
کھیلوں کے فروغ کے لیے ہر ماہ چیمپئن شپ مقابلے منعقد کرنے اور اسکول کے گراؤنڈز شام کے اوقات میں عوام کے لیے کھولنے کے احکامات جاری کیے گئے۔
ماہی پروری میں بھی اہم پیش رفت پیش کی گئی، جس کے مطابق پنجاب میں جھینگا فارمنگ کامیابی سے جاری ہے اور لاکھوں روپے مالیت کے جھینگے برآمد کیے گئے ہیں۔ پانچ ہزار ایکڑ پر نئی جھینگا فارمنگ فروری 2026 سے شروع ہوگی۔
انہوں نے وائلڈ لائف کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کیے جانے کا حکم دیا اور بتایا گیا کہ وائلڈ لائف ایکٹ 1974 میں ترمیم کے بعد گھروں میں جنگلی جانور رکھنے کے خلاف کارروائیاں شدت سے جاری ہیں۔
محکمہ وائلڈ لائف نے 35000 پرندے اور 7000 جانور بازیاب کیے ہیں، جبکہ لاہور، خانیوال اور راولپنڈی میں خصوصی بحالی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔
پنجاب کے 18 اضلاع میں 41 ایئر کوالٹی مانیٹرنگ اسٹیشنز فعال ہیں اور اگلے سال 100 مزید اسٹیشنز نصب کیے جائیں گے۔ سیٹلائٹ ٹریکنگ کے ذریعے فصلوں کی آگ میں 66 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
ماحولیاتی نگرانی کے لیے ای پی اے نے پاکستان کا پہلا ایکو چیٹ بوٹ تیار کیا ہے، جبکہ 660 اہلکاروں پر مشتمل انوائرمنٹ پروٹیکشن فورس سرگرم عمل ہے۔
300000 سے زائد ٹیسٹ ای میشن ٹیسٹنگ سسٹم کے ذریعے مکمل کیے گئے ہیں، اور سیف سٹی میں اسموگ کمانڈ اینڈ کنٹرول روم بھی قائم کر دیا گیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








