مریم نواز واقعی پاکستان کی پہلی خاتون سیاسی قیدی ہیں؟ شواہد نے سب کچھ واضح کر دیا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کا کہنا ہے کہ شاید وہ پہلی پاکستانی خاتون ہیں جو سیاسی وجوہات کی بنا پر جیل میں بند ہوئی اور بدترین سلوک کا سامنا کیا تاہم ان کے اس دعوے پر عوام اور سیاسی مبصرین میں بحث چھڑ گئی اور مورخین نے اس کی تصدیق کا مطالبہ کیا۔

24 نومبر 2025 کو پارٹی اجلاس میں مریم نواز نے کہا کہ 2018 میں اپنے والد نواز شریف کے ساتھ اڈیالہ جیل میں قید رہی اور شاید میں وہ پہلی خاتون ہوں جسے سیاسی قید میں رکھا گیا اور بدترین سلوک کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ ان کے سیل میں کیمرے لگے ہوئے تھے اور انہیں دن میں صرف ایک ہی کھانا دیا جاتا تھا۔

@dawn.todayChief Minister Punjab Maryam Nawaz said on Monday claimed that she was the first woman in Pakistan to be “jailed and treated the worst” while addressing a meeting. She aded that Pakistan’s political culture often rallies around those facing difficult circumstances, noting that “there’s a human psyche in Pakistan that people stand with those in a different situation.” Reflecting on her own experience from when she was imprisoned in 2018, Maryam commented, “Even in 2018, when Nawaz Sb and I were in jail, I was perhaps the first Pakistani woman they put in jail and was mistreated the worst.” She argued that despite those conditions, her party still chose to participate in the electoral process. “But we didn’t boycott the elections; we contested even in the worst circumstances,” she said. According to the chief minister, “People who boycott the elections are the ones who know they’ll lose.” #DawnToday

♬ original sound – Dawn.com

مریم نواز کے بیان کے بعد سوشل میڈیا صارفین اور سیاسی تجزیہ کاروں نے فوراً یہ نکتہ اٹھایا کہ مریم نواز کا دعویٰ پاکستان کی تاریخ میں دیگر خواتین کی سیاسی قید کو نظر انداز کرتا ہے خاص طور پر فوجی حکمرانی کے دور میں۔

تاریخی شواہد کے مطابق چند مشہور خواتین جو سیاسی وجوہات کی بنا پر جیل یا حراست میں رہ چکی ہیں

بیگم نصرت بھٹو: 1977 میں ذوالفقار علی بھٹو کے برطرف ہونے کے بعد بیگم نصرت بھٹو کو بار بار گرفتار اور گھر میں نظر بند کیا گیا اور انہوں نے تحریک بحالی جمہوریت کی قیادت کی۔

Twitter Alert: Nusrat Bhutto 'faced Zia like a rock'

بینظیر بھٹو: پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم بینظیر بھٹو 1977 سے 1980 کی دہائی کے اوائل تک جنرل ضیا الحق کی فوجی حکمرانی کے خلاف اپنی سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے کئی بار گرفتار اور نظر بند رہیں۔ انہوں نے تقریباً چھ سال جیل یا حراست میں گزارے۔

Benazir Bhutto Shaheed, Sukkur Jail, 1980

پیپلز پارٹی سمیت دیگر خواتین سیاسی کارکنان بھی ضیا الحق کے دور میں گرفتار، قید اور تشدد کا شکار ہوئیں جن میں مسز زبیدہ ملک شامل ہیں جنہیں مشہور شاہی قلعہ میں رکھا گیا۔

اگرچہ مریم نواز کے تجربات ذاتی طور پر سنگین ہو سکتے ہیں تاریخی ریکارڈ واضح کرتے ہیں کہ وہ پہلی خاتون نہیں تھیں جو سیاسی قید کا سامنا کر رہی ہیں اور نہ ہی خواتین رہنماؤں کے لیے جیل میں مشکلات کا تجربہ نیا ہے۔

یہ بحث اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ذاتی سیاسی بیانیے حساس نوعیت کے ہوتے ہیں اور ضروری ہے کہ ایسے دعوے مستند تاریخی حقائق کے مطابق ہوں۔

Related Posts