کراچی: سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے ایک اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) کا اجلاس دسمبر 2025 کے پہلے ہفتے میں منعقد ہو رہا ہے اور اس سے قبل وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ صوبوں سے وفاقی اخراجات میں حصہ مانگنے کے بجائے سب سے پہلے عالمی مالیاتی ادارے کی تازہ رپورٹ میں سامنے آنے والے نکات پر نظر ڈالے۔
میاں رضا ربانی کے مطابق آئی ایم ایف کی جاری کردہ رپورٹ کے حصے گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگنوسس اسیسمنٹ میں پاکستان کے اندرونی مالیاتی نظم و ضبط، داخلی و بیرونی آڈٹ کے کمزور نظام، آئینی خود مختاری کے باوجود آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی عملی طور پر وفاقی حکومت کے ماتحتی اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی کمزور نگرانی جیسے سنگین مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ملک کی مختلف وزارتوں میں مالیاتی انتظام کے لیے 25 چیف فنانس اینڈ اکاؤنٹس آفیسر تعینات ہیں لیکن متعدد وزارتوں اور ڈویژنز میں آڈٹ کے افسر موجود نہیں جبکہ 15 وزارتوں میں سی ایف اے او بھی تعینات نہیں کیے گئے۔ وفاقی حکومت نے پبلک فنانشل مینجمنٹ ایکٹ 2019 پر بھی اب تک مکمل عمل درآمد نہیں کیا۔
میاں رضا ربانی نے توجہ دلائی کہ آڈیٹر جنرل کو ایک ماتحت ادارے کا درجہ دے دیا گیا ہے جس کے باعث وہ پارلیمان کو براہ راست رپورٹ کرنے کے بجائے پہلے ایک وفاقی سیکریٹریٹ، پھر وزیراعظم اور صدر کے ذریعے رپورٹ کرتا ہے اور یہ طریقہ کار آڈٹ کے پورے عمل کی خود مختاری اور غیر جانبداری کو شدید متاثر کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ انتظامیہ آئین 1973 کے تحت قائم تمام اداروں بشمول عدلیہ پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانا چاہتی ہے۔ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو منتقل کی گئی وزارتوں اور ڈویژنز کو مکمل طور پر صوبوں کے سپرد کرے کیونکہ ان میں سے کئی ابھی تک وفاق کے کنٹرول میں موجود ہیں۔
رضا ربانی کا کہنا تھا کہ اگر وفاقی حکومت یہ انتظامی اور مالیاتی خامیاں دور کر لے تو نہ صرف صوبوں پر بوجھ ڈالنے کی ضرورت ختم ہو جائے گی بلکہ این ایف سی ایوارڈ کے موجودہ حصے سے وفاق کے پاس اضافی وسائل بھی دستیاب ہو سکتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








