کوئی بھی پینے کے قابل نہیں! پاکستان میں پانی کے کون کون سے 26 برانڈز انسانی صحت کیلئے خطرناک قرار؟

تازہ ترین

تازہ ترین

26 bottled water brands found unsafe for human consumption
ONLINE

اسلام آباد میں پاکستان کونسل فار ریسرچ اِن واٹر ریسورسز (پی سی آر ڈبلیو آر) نے منگل کے روز ملک بھر میں دستیاب 26 بوتل بند پانی کے برانڈز کو انسانی صحت کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔

یہ برانڈز مائیکرو بائیولوجیکل یا کیمیکل آلودگی کے باعث پینے کے قابل نہیں پائے گئے۔ حکومتِ پاکستان نے پی سی آر ڈبلیو آر کو پابند کر رکھا ہے کہ وہ ہر سہ ماہی میں ملک میں فروخت ہونے والے منرل اور بوتل بند پانی کے برانڈز کا تجزیہ کرے اور عوام کو ان کی اصل صورتحال سے آگاہ کرے تاکہ شہریوں کی صحت کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔

سال 2025 کی تیسری سہ ماہی یعنی جولائی سے ستمبر تک کی رپورٹ کے لیے پی سی آر ڈبلیو آر نے ملک کے 21 بڑے شہروں سے 205 نمونے اکٹھے کیے۔

ان نمونوں کے لیبارٹری نتائج کا موازنہ پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (پی ایس کیو سی اے) کے مقرر کردہ معیارات سے کیا گیاجس کے مطابق 26 برانڈز معیار پر پورا نہ اتر سکے اور صحت کے لیے مضر قرار دیے گئے۔

پی سی آر ڈبلیو آر نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ملک میں پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی کے باعث بڑی تعداد میں لوگ بوتل بند پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں تاہم متعدد کمپنیاں آلودہ پانی کو منرل واٹر کے نام پر فروخت کر رہی ہیں جس سے صارفین کی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔

کیمیائی آلودگی والے برانڈز میں وہ شامل ہیں جن میں سوڈیم کی مقدار ضرورت سے زیادہ پائی گئی، جن میں پیور ڈرنکنگ واٹر، پریمیم ڈرنکنگ واٹر، ایلٹسین اور پیوریفا شامل ہیں۔

اسی طرح جن برانڈز میں آرسینک کی مقدار حد سے زیادہ تھی اُن میں نیچرل پیور لائف، ایکوا نیسٹ، پریمیم صفا پیوریفائیڈ واٹر، پیو پانی بوٹلڈ ڈرنکنگ واٹر اور وولگا شامل ہیں۔

اس کے علاوہ سترہ برانڈز بیکٹیریا سے آلودہ پائے گئے جن میں اے ٹو زی پیور ڈرنکنگ واٹر، نیو مہرین، زلمی، پیور لائف، ڈئیر ڈرنکنگ واٹر، ڈریم پیور، گلف، کرسٹل ایکوا، روحا واٹر، پیور ڈرنکنگ واٹر، پریمیم ڈرنکنگ واٹر، فریش ایکوا، ایشیا ہیلتھی ڈرنکنگ واٹر، آئس برگ، لسانی، وولگا اور مایا پریمیم ڈرنکنگ واٹر شامل ہیں۔

پی سی آر ڈبلیو آر نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بوتل بند پانی خریدتے وقت مستند ذرائع سے اس کی حفاظتی رپورٹ ضرور چیک کریں اور ایسے برانڈز کے استعمال سے گریز کریں جو صحت کے لیے خطرے کا باعث بن سکتے ہیں۔

مکمل رپورٹ پڑھنے کے لیے پی سی آر ڈبلیو آر نے اپنی ویب سائٹ پر تفصیلات فراہم کی ہیں۔

Related Posts