لندن میں موبائل چوروں کے رویے میں ایک دلچسپ رجحان سامنے آیا ہے جہاں اینڈرائیڈ صارفین نے بتایا کہ چور ان کے فون چھیننے کے بعد ماڈل دیکھ کر فوراً واپس کر دیتے ہیں اگر وہ آئی فون نہ ہو۔
لندن سینٹرک کی رپورٹ کے مطابق ایک چور نے سیم نامی شخص کو اس کا اینڈرائیڈ فون واپس کرتے ہوئے کہا ڈونٹ وانٹ سام سنگ ، یعنی سام سنگ نہیں چاہیے ۔
سیم32 سالہ ان متعدد اینڈرائیڈ صارفین میں شامل تھے جنہوں نے شہر میں ڈکیتی کے بعد اپنے فون واپس ملنے کے تجربات بیان کیے، جو کہ جذباتی طور پر چونکانے والا اور حیران کن تھا۔
ایک اور واقعے میں مارک، جو سام سنگ گلیکسی استعمال کرتے ہیں، اپنے دفتر کے باہر تھے جب ایک ای بائیک پر سوار چور نے ان کا فون چھین لیا۔ مارک نے چور کا پیچھا کرنے کی کوشش کی مگر ای بائیک کی رفتار کے سامنے وہ ناکام رہے۔
حیران کن بات یہ ہوئی کہ چور نے اچانک رک کر فون دیکھا اور اسے سڑک پر پھینک دیاپھر تیزی سے فرار ہو گیا۔ مارک نے فون بغیر نقصان کے واپس حاصل کیاتاہم انہوں نے کہا کہ اس واقعے سے ان کے جذبات کو دھچکا لگا۔
ایک اور واقعے میں سائمن بروکلی ہائی اسٹریٹ پر چل رہے تھے جب ایک نوجوان خوشگوار رویے کے ساتھ ان کے پاس آیا اور پوچھا کہ کیا وہ اسپاٹیفائی استعمال کرتے ہیں۔
سائمن نے جب اپنا فون نکالا تو چور نے اسے دیکھا، فون سام سنگ تھا، اور فوراً چلا گیا۔ بعد میں سائمن کو احساس ہوا کہ جو ابتدا میں خوشگوار بات چیت لگی، وہ اصل میں ایک ممکنہ ڈکیتی تھی، جو ان کے موبائل کے انتخاب کی وجہ سے ناکام ہو گئی۔
لندن کی میٹروپولیٹن پولیس اس بڑھتے ہوئے مسئلے سے نمٹنے کے لیے اقدامات کو تیز کر رہی ہے۔ چور اکثر نقاب پوش اور ای بائیک پر سوار رہتے ہیں اور مقامی شہریوں اور سیاحوں سے فون چھینتے ہیں۔
گزشتہ سال لندن میں ریکارڈ 80000 فونز چوری ہوئے، جس سے شہر کو یورپ میں فون چوری کے حوالے سے غیر مستحسن شہرت حاصل ہوئی۔
اگرچہ میٹروپولیٹن پولیس اور سٹی آف لندن پولیس کے پاس اینڈرائیڈ اور آئی فون چوری کی الگ الگ سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں،
ماہرین اور اینڈرائیڈ صارفین نے اس رجحان کی نشاندہی کی ہے کہ چور زیادہ تر آئی فونز کو ہدف بناتے ہیں کیونکہ ان کی دوبارہ فروخت کی قیمت زیادہ ہے۔
سائبر سیکیورٹی مشیر جیک مور نے لندن سینٹرک کو بتایا کہ اینڈرائیڈ اور آئی فون کے سیکیورٹی فیچرز ایک جیسے ہیں، اس لیے چور صرف اس وجہ سے ایپل فونز کو ہدف نہیں بناتے کہ وہ آسانی سے انلاک ہو جائیں، بلکہ بنیادی وجہ ان کی زیادہ مارکیٹ ویلیو ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








