آئی ایم ایف کی ایک اور بڑی شرط پوری، گریڈ 17 اور اوپر والوں کے احتساب کی راہ ہموار

تازہ ترین

تازہ ترین

آئی ایم ایف
(فوٹو: آن لائن)

پاکستان نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ایک اور بڑی شرط پوری کرتے ہوئے گریڈ 17 اور اوپر والوں کے کڑے احتساب کی راہ ہموار ہوگئی، جس کی ابتدا ایف بی آر کے نوٹیفکیشن سے ہوگئی ہے۔

تفسیلات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسران کے اثاثہ جات ظاہر کرنے سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ ایف بی آر نے یہ اقدام انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 231 کی ذیلی دفعہ (1) کے تحت اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے اٹھایا۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے شیئرنگ آف ڈیکلریشن آف اسٹیٹس آفس سول سرونتس رولز 2023 میں اہم ترامیم متعارف کرادیں۔ اس سے قبل یہی ترامیم اکتوبر 2025 کو جاری نوٹیفکیشن کے تحت شائع کی گئیں جنہیں عوامی رائے کے بعد حتمی شکل دے دی گئی  ہے۔ نئے قواعد میں متعدد تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

ایف بی آر کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق سب سے اہم ترمیم لفظ سول کی جگہ پبلک استعمال کرنے سے متعلق ہے جبکہ رول 2 میں نئی شق بھی شامل کی گئی ہے جس کے تحت نہ صرف اسکیل 17 اور اس سے اوپر کے افسران کو پبلک سرونٹ قرار دیا گیا ہے بلکہ اس میں سول سرونٹس ایکٹ 1973 کے تحت آنے والے ملازمین کو بھی شامل کرلیا گیا۔

شق کے تحت اس کیٹگری میں ایسے افسران کو شامل نہیں کیا گیا جنہیں قومی احتساب آرڈیننس 1999 کی دفعہ 5 کی کلاز این کی ذیلی شق 4 کے تحت استثنیٰ دیا گیا ہو۔ ایف بی آر کا کہنا ہے کہ ان ترامیم کا مقصد قواعد کو جامع اور ہم آہنگ بنانا ہے جس سے سرکاری و نیم سرکاری افسران کے اثاثہ جات کی معلومات کے تبادلے کا نظام مزید واضح اور شفاف ہوسکے گا۔

Related Posts