نظامِ شمسی میں زمین کے ہمسایہ سرخ سیارے مریخ پر بارش تک نہیں ہوتی۔ سائنسدانوں نے حال ہی میں خفیف بجلی گرنے کے واقعات (منی لائٹننگ) کو بڑی پیشرفت قرار دے دیا ہے جو روایتی آسمانی بجلی نہیں بلکہ زمین کے ریگستانوں میں پائی گئی ساکن بجلی سے مشابہ ہے۔
تفصیلات کے مطابق سائنسدانوں نے مریخ پر بھیجے گئے روبوٹ ( پریزروینس روور) کے 28گھنٹے طویل آڈیو اور ویڈیو ڈیٹا کا تجزیہ کیا، جس سے پتہ چلتا ہے کہ مریخ پر دیکھی گئی خفیف بجلی کی چمک عموماً گرد آلود بگولوں اور طوفانوں کے دوران پیدا ہوتی ہے، جسے منی لائٹننگ کا نام دیا گیا ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ چارج اتنا کمزور ہوتا ہے کہ انسانی جان کیلئے خطرہ نہں بن پاتا، تاہم اس کا مریخ پر پیچیدہ کیمیائی عوامل میں اہم کردار ہوسکتا ہے۔ روور کے مائیکروفون نے چند سینٹی میٹر کے فاصلے تک برقی آرکس کی آوازوں کو ریکارڈ کرلیا تھا جن کی آوازیں فوراً ہی جھٹکے جیسی محسوس ہونے لگتی ہیں۔
For decades, planetary scientists have hypothesized that the swirling, dusty atmosphere of Mars must be electrically active. Now, thanks to NASA’s Perseverance rover, we have the first auditory proof.
The rover’s SuperCam microphone has recorded distinct sounds of electrostatic… pic.twitter.com/vQFcCedEIq
— Science & Astronomy (@sci_astronomy) November 27, 2025
گزشتہ 2 سال کے دوران 55ایسے واقعات ریکارڈ ہوئے جن کا تعلق زیادہ تر گرد آلود بگولوں اور طوفانی موسم سے منسلک رہا ہے، جبکہ مریخ پر عموماً بارش نہیں ہوتی کیونکہ مریخ کی فضا میں پانی برف کی صورت میں ہی دستیاب رہتا ہے، مائع نہیں بن پاتا۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ مستقبل میں منی لائٹننگ انسان کے مریخ پر بستیاں بسانے کے منصوبے کیلئے چیلنج بن سکتی ہیں کیونکہ خلائی لباس اور آلات میں ایسے عوامل کے باعث شارٹ سرکٹ جیسے خدشات پیدا ہوسکتے ہیں جبکہ اس دریافت سے مریخ کے موسم اور زندگی کے ممکنہ آثار پر آئندہ تحقیقات میں مدد بھی مل سکتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








