وزیر خارجہ و نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت کو سبق سکھا سکتا ہے تو افغانستان کوئی مسئلہ ہی نہیں، یہ مسئلہ طاقت سے حل کرسکتے ہیں لیکن اپنے بھائی کو گھر میں گھس کر مارنے کی خواہش نہیں۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے افغان طالبان کو بتا دیا تھا کہ اگر دہشت گردی کا مسئلہ حل نہ ہوا تو ان کیلئے مصیبت بن جائے گی۔ افغان ہم منصب امیر متقی نے کہا کہ ٹی ٹی پی کے چند لوگ گرفتار کیے ہیں، لیکن ہم نے واضح کیا کہ چند سو لوگوں کی گرفتاری کافی نہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے بحرین، روس اور برسلز کے دورے کیے، ماسکو میں ایس سی او سربراہی اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کی، پاکستان کی معاشی ترجیحات پر گفتگو ہوئی، علاقائی روابط اور توانائی کے شعبے میں تعاون سے متعلق مؤقف پیش کیا اور یورپی یونین کے صدر سے بھی ملاقات کی۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ برسلز میں پاکستان اور یورپی یونین کے مابین اسٹرٹیجک ڈائیلاگ میں مقبوضہ کشمیر، سندھ طاس معاہدے اور افغانستان کے علاوہ جی ایس پی پلس سمیت مختلف امور زیر غور آئے۔ ہم نے یورپی یونین کے 27 ممالک کو پاکستان کی افغانستان کے ساتھ کشیدگی پر بریفنگ دی۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے یورپی یونین کو حقائق سے آگاہ کیا جسے تسلیم کیا گیا اور بتایا کہ افغانستان نے انسدادِ دہشت گردی کے متعلق اپنا وعدہ وفا نہیں کیا۔ ہماری خواہش ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔ امن ہی واحد راستہ ہے۔ ہم نے افغانستان سے کہا کہ ٹی ٹی پی کو پاک افغان سرحد سے دور لے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ دوسرا راستہ یہ ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی کو پاکستان کے حوالے کریں۔ اپنے دورہ کابل کے بعد افغانستان سے جو وعدے ہوئے، پاکستان نے پورے کیے۔ ہم نے اچھی نیت پر مبنی اقدامات کیے جن کو افغانستان نے بھی تسلیم کیا۔ لیکن افغانستان کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی کے وعدے پورے نہ ہونے سے صورتحال مزید خراب ہوگئی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








