کہانی لکھنی ہو یا مضمون، خط لکھنا ہو یا تصویر بنوانی ہو یا پھر کسی طبی سوال کا جواب درکار ہو، عوام کی بڑی تعداد آج کل گوگل جیسے مقبول ترین سرچ انجن کو چھوڑ کر چیٹ جی پی ٹی پر انحصار کر رہی ہے، جس کے مقبول ترین فیچرز سامنے آگئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق 30 نومبر کو چیٹ جی پی ٹی کے عوام سے تعارف کو 3 سال مکمل ہوگئے۔ اس موقعے پر چیٹ جی پی ٹی متعارف کرانے والی کمپنی اوپن اے آئی نے بتایا کہ چیٹ جی پی ٹی ہر گزرتے ہوئے 1 سیکنڈ میں تقریباً 29ہزار پیغامات کے جوابات دیتا ہے اور ہر جواب ہر دوسرے جواب کے مقابلے میں اپنے الفاظ کے استعمال کے لحاظ سے منفرد ہوتا ہے۔
اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ ہر 7روز میں تقریباً 80 کروڑ افراد چیٹ جی پی ٹی کو مختلف مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہیں جن میں سب سے زیادہ 75فیصد تک چیٹس میں عملی رہنمائی، کسی بھی مسئلے کی تفصیل اور تحریری مواد لکھنے پر توجہ مرکوز رہتی ہے۔ بے شمار افراد کسی تحریر کو درست کرانے اور ترجمے کیلئے بھی چیٹ جی پی ٹی کا استعمال کرتے ہیں۔
عالمی سطح پر چیٹ جی پی ٹی کے 6 ایسے فیچرز بیان کیے گئے ہیں جنہیں لوگ سب سے زیادہ استعمال کرتے ہیں اور زیر نظر تحریر میں قارئین کو یہ بھی بتایا جائے گا کہ کس فیچر کو کیسے اور کیوں استعمال کیاجاتا ہے۔
عوام الناس کو آگہی دیتے ہوئے اوپن اے آئی نے بتایا کہ جن 6فیچرز کو سب سے زیادہ استعمال کیا گیا ہے ان میں تصویر اپ لوڈ کرنا، ویب سرچنگ، کسی ریزننگ ماڈل کا استعمال، کوئی تصویر بنوالینا، ڈیٹا کا تجزیہ کروانا اور ڈکٹیشن کے فیچرز اہمیت کے حامل ہیں۔
رہا یہ سوال کہ کس فیچر کو کیسے استعمال کیا جاتا ہے تو تصویر اپ لوڈ کرنے کا فیچر چیٹ جی پی ٹی کے چیٹ باکس کے ساتھ ہی پلس کے آئیکن کے ساتھ موجود ہوتا ہے، جس کی تصویر ذیل میں دیکھی جاسکتی ہے۔

تصویر اپ لوڈ کرنے کا فیچر اس لیے استعمال کیاجاتا ہے تاکہ جو بات کوئی سوال کرنے والا شخص چیٹ جی پی ٹی کو اپنے الفاظ سے سمجھا نہیں سکتا وہ تصویر دکھا کر سمجھا دے یا اس تصویر کے بارے میں ہی سوال کرے کہ یہ کیا ہے اور کس ملک میں پائی جانے والی چیز ہے وغیرہ۔
اسی طرح دوسرا فیچر ویب سرچنگ کا ہے جس میں لوگ چیٹ جی پی ٹی سے سوال کرتے ہوئے جب یہ محسوس کرتے ہیں کہ انہیں کسی سوال کا جواب انٹرنیٹ سے ہی مل سکتا ہے تو چیٹ جی پی ٹی سے درخواست کرتے ہیں کہ ان کے سوال کا جواب انٹرنیٹ سے تلاش اور آن لائن ریسرچ کے ساتھ دے، اس طرح یہ فیچر تازہ ترین معلومات پر مبنی ہوتا ہے۔
تیسرا فیچر کسی ریزننگ ماڈل کا استعمال ہے یعنی اس فیچر کے ذریعے عوام چیٹ جی پی ٹی کے مختلف ماڈلز بشمول 01 پروویو اور 03 ریزننگ کا استعمال کرتے ہیں، تاہم یہ آپشن چیٹ جی پی ٹی کے فری ورژن میں زیادہ تر دستیاب نہیں ہوتا۔
چوتھا فیچر چیٹ جی پی ٹی سے کوئی تصویر بنوانا ہے۔ تو عوام کی بڑی تعداد چیٹ جی پی ٹی سے کوئی فرضی تصویر بنوانا چاہتی ہے اور بعض اوقات کوئی تصویر دے کر اسے ایڈیٹ کرنے کا بھی کہا جاتا ہے، جسے چیٹ جی پی ٹی بہت آسانی کے ساتھ کرلیتا ہے۔
پانچواں فیچر ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کا فیچر ہے۔ مثال کے طور پر کوئی ایکسل فائل یا پی ڈی ایف اپ لوڈ کرکے چیٹ جی پی ٹی کو اس کی سمری تیار کرنے کا بھی کہا جاسکتا ہے اور یہ بھی پوچھا جاسکتا ہے کہ اس میں کون سا لفظ کتنی بار استعمال ہوا ہے اور اگر کوئی دلائل پر مبنی سوال پوچھنا ہو تو وہ بھی پوچھا جاسکتا ہے۔
چھٹا اور آخری مقبول ترین فیچر ڈکٹیشن کا فیچر ہے یعنی عوام کی بڑی تعداد چیٹ جی پی ٹی سے سوال کرتے ہوئے بھی کی بورڈ یا موبائل کے استعمال کو محدود کرتے ہوئے صرف ڈکٹیشن پر انحصار کرنا چاہتی ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ چیٹ جی پی ٹی کے مسیج باکس کے ساتھ جو مائیک بنا ہوا ہے اسے دبا لیا جائے۔

مائیک کا یہ آئیکن دباتے ہی چیٹ جی پی ٹی کو واٹس ایپ کی طرح وائس مسیج بھیجا جاسکتا ہے جسے یہ چیٹ بوٹ بہت تیزی سے الفاظ میں تبدیل کرلیتا ہے اور صارف کے سوال کا جواب دے کر اسے مطمئن کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








