تنظیماتِ اہل سنت سے وابستہ 500 سے زائد مفتیانِ کرام نے ایک اہم مشاورتی اجلاس کے بعد باقاعدہ شرعی اعلامیہ جاری کیا ہے، جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور اس کی سرزمین پر خودکش حملے قطعی حرام ہیں۔
مفتیانِ کرام نے اپنے فتویٰ میں طالبان کے بھارت اور اسرائیل سے بڑھتے ہوئے روابط کو پاکستان دشمنی اور اسلام مخالف اقدام قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی۔
اعلامیے میں مساجد، مدارس اور مزارات کو استحکامِ پاکستان کی علامت قرار دیا گیا، جبکہ خاندانی نظام کو ملکی وحدت کی بنیادی اکائی قرار دیتے ہوئے اس کے تحفظ کو ہر پاکستانی پر لازم قرار دیا گیا۔
یہ تاریخی مشاورتی اجلاس پیرزادہ محمد امین قادری کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جسے قائدین تنظیمات اہل سنت—سابق وفاقی وزراء سید حامد سعید کاظمی، پیر امین الحسنات شاہ، ملی یکجہتی کونسل کے صدر ڈاکٹر ابو الخیر محمد زبیر الوری، امیر مرکزی جماعت اہل سنت پیر عبدالخالق قادری، میاں جلیل احمد شرقپوری، پیرزادہ نبی امین، مولانا غیاث الدین، صاحبزادہ حسن رضا، ثروت اعجاز قادری، شاداب رضا نقشبندی، اور پیر سید معصوم حسین نقوی—نے خصوصی ہدایات فراہم کیں۔
مفتیانِ کرام نے ایک بار پھر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلام اور پاکستان لازم و ملزوم ہیں، اور ملک کے خلاف کسی بھی شدت پسندانہ کارروائی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








