پنجاب حکومت نے کائٹ فلائینگ آرڈیننس 2025 جاری کر دیا ہے جس کے تحت اب پتنگ بازی صرف ڈپٹی کمشنر کی اجازت سے ممکن ہوگی۔ نئے آرڈیننس کے مطابق پتنگ بنانے اور فروخت کرنے کے لیے رجسٹریشن لازمی ہوگی اور پتنگ باز تنظیموں کو بھی قانونی رجسٹریشن کروانی ہوگی۔ رجسٹریشن کے بعد ہی پتنگ بنانے اور فروخت کرنے کا لائسنس جاری کیا جائے گا۔
حکومت پنجاب نے پرانا 2001 کا پتنگ بازی پابندی آرڈیننس اب مکمل طور پر منسوخ کر دیا گیا ہے لیکن اس کے تحت کیے گئے سابق اقدامات کو درست قرار دیا گیا ہے۔
آرڈیننس میں حکومت اور ڈپٹی کمشنرز کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ مخصوص دنوں، اوقات اور جگہوں پر محدود پیمانے پر پتنگ بازی کی اجازت دے سکیں، تاہم اس میں صرف غیر خطرناک مواد کے استعمال کی اجازت ہے مگر غیر خطرناک مواد کی واضح تعریف موجود نہیں۔
پنجاب حکومت کے جاری کردہ آرڈیننس میں خطرناک ڈور، غیر محفوظ پتنگ اور اس کے استعمال پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ خلاف ورزی کرنے والے کو تین سے پانچ سال قید یا 20 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ بار بار خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے اضافی جرمانے اور انعامی اسکیم بھی وضع کی گئی ہے۔ بچوں کے کیس جوینائل جسٹس سسٹم ایکٹ کے تحت نمٹائے جائیں گے۔
آرڈیننس میں واضح کیا گیا ہے کہ میٹل وائر، نائلون تندی یا تیز مانجھا استعمال، فروخت یا تیاری کے لیے مکمل طور پر ممنوع ہوگا۔ رجسٹریشن کے بغیر کسی بھی شخص کو پتنگ بنانے یا فروخت کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ خلاف ورزی کرنے والے پر ایک سے پانچ سال قید یا ایک لاکھ سے پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ لگ سکتا ہے۔
آرڈیننس کے تحت ڈپٹی کمشنرز کو اختیار ہوگا کہ وہ مخصوص دنوں، اوقات اور مقامات پر محدود اور محفوظ طریقے سے پتنگ بازی کی اجازت دے سکیں۔ اس میں حفاظتی اقدامات، مخصوص مواد اور عوامی حفاظت کو مدنظر رکھا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق اس آرڈیننس کا مقصد جانوں کی حفاظت، پتنگ بازی کی صنعت کو ریگولیٹ کرنا، ثقافتی تقریبات کا محفوظ جشن یقینی بنانا اور خلاف ورزی کرنے والوں کو بھاری جرمانے اور وسیع شدہ اختیارات کے ذریعے روکنا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








