چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ عالیہ نیلم نے پنجاب پولیس کو نو عمر ڈرائیورز کو گرفتار کرنے سے فوری طور پر روک دیا۔چیف جسٹس نے انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب (آئی جی پنجاب) کو حکم دیا ہے کہ نو عمر ڈرائیوروں کو اس حوالے سے آگاہی فراہم کی جائے۔
لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر نابالغ بچوں کی گرفتاریوں کا نوٹس لیتے ہوئے پنجاب پولیس کو حکم دیا کہ موٹر سائیکل یا کار چلانے والے کم عمر بچوں کو پہلی بار وارننگ دی جائے اور بار بار خلاف ورزی کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
یاد رہے کہ گوجرانوالہ کے چیف ٹریفک آفیسر کے احکامات پر ٹریفک خلاف ورزیوں اور نابالغ ڈرائیونگ کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا گیا۔ اس دوران متعدد کم عمر ڈرائیوروں کو گرفتار کرکے گاڑیاں بھی ضبط کرلیں۔
ٹریفک حکام کے مطابق کم عمر بچوں کی ڈرائیونگ نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ والدین کی لاپرواہی حادثات کی بڑی وجہ ہے۔
حکام کے مطابق یہ مہم شہریوں کی جانوں کی حفاظت کیلئے شروع کی گئی ہے اور والدین کو خبردار کیا گیا ہے کہ نابالغ بچوں کو موٹر سائیکل نہ چلانے دیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خلاف ورزی کی صورت میں نابالغ ڈرائیوروں کے والدین کے خلاف بھی مقدمات درج کیے جا سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ ایک روز شاہراہ دستور پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کے 16 سالہ بیٹے نے 2 موٹر سائیکل سوار نوجوان لڑکیوں کو اپنی تیز رفتار گاڑی سے کچل ڈالا تھا جس کے باعث دونوں لڑکیاں جاں بحق ہو گئیں۔ پولیس حکام کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کے بیٹے کی عمر صرف 16 سال ہے جبکہ اس کے پاس ڈرائیونگ لائسنس بھی موجود نہیں تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








