کراچی: شہرِ قائد میں واقع ایدھی شیلٹر ہوم پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 7 لڑکیوں کو تحویل میں لے لیا جس کے بعد شیلٹر ہوم کی ایک لڑکی کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا گیا۔
بوٹ بیسن پولیس نے جوڈیشل مجسٹریٹ کی نگرانی میں کلفٹن کے ایدھی وومن شیلٹر ہوم پر چھاپہ مارا جبکہ یہ کارروائی سکینہ نامی لڑکی کی درخواست پر عمل میں لائی گئی۔
پولیس کی درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق مدعیہ سکینہ نے الزام عائد کیا کہ مدیحہ نامی لڑکی نے شدید تشدد کیا جس سے میصرہ نامی لڑکی شیلٹر ہوم میں ہلاک ہو گئی۔
سکینہ کی مدعیت میں درج کی گئی ایف آر میں قتل کی دفعات لگائی گئی ہیں جن کے تحت عدالت کے حکم پر بوٹ بیسن پولیس کو حرکت میں آنا پڑا۔ پولیس نے 7 لڑکیوں کو تحویل میں لے کر مزید تفتیش شروع کردی۔
مقتولہ میصرہ کے بارے میں ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے آج میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دسمبر 2017ء کے اواخر میں ہلاک ہونے والی میصرہ بیمار تھی جسے بیماری نے چڑچڑا بنا دیا تھا۔

گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








