راولپنڈی میں ٹریفک قوانین کی بہتر نگرانی اور نافذ کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کر دیا گیا ہے۔ شہر کی ترقی یافتہ ٹریفک مانیٹرنگ سسٹم میں اب ڈرونز بھی شامل ہو گئے ہیں جو بھیڑ بھاڑ والے علاقوں اور اہم شاہراہوں پر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر نظر رکھیں گے۔
ٹیکنالوجی کا استعمال
راولپنڈی کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر فرحان اسلم کے مطابق ہم جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے قانون شکنوں کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں۔ ڈرونز کے ذریعے ٹریفک وارڈن فوری کارروائی کریں گے۔ ڈرونز ابتدائی طور پر شہر کے مصروف ترین علاقوں میں استعمال کیے جائیں گے جہاں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیاں زیادہ ہوتی ہیں۔
ای چالان سسٹم
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کے لیے ای چالان سسٹم بھی فعال کر دیا گیا ہے جو 22 نومبر سے سیف سٹی کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر سے منسلک ہے۔ صرف چار دن میں 600 سے زائد چالانیں جاری کی گئیں جو مختلف قسم کی خلاف ورزیوں کے لیے تھیں۔
کیمرہ نیٹ ورک
شہر بھر میں 359 مقامات پر 2000 سے زائد کیمرے نصب کیے گئے ہیں جن میں سے 15 کیمرے شہر کے انٹری اور ایگزٹ پوائنٹس پر لگائے گئے ہیں۔ یہ کیمرے ٹریفک کے بہاؤ، وارڈنز کی کارکردگی اور اہم شاہراہوں پر نگرانی کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
مقصد
پولیس اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس سسٹم کا بنیادی مقصد شہریوں کی جانوں کو بچانا ہے نہ کہ محض جرمانے لگانا۔ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں، بغیر ہیلمٹ موٹرسائیکل سواروں اور ون وے سڑکوں پر گاڑیوں کو روکنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
ڈرونز اور کیمرہ نیٹ ورک کے استعمال سے راولپنڈی میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی جو شہر کی نقل و حرکت کو آسان بنانے اور حادثات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام پنجاب بھر میں ٹریفک قوانین کی نافذ کرنے کی ایک مثال بنے گا۔
یہ اقدام راولپنڈی کو ایک جدید شہر بنانے کی طرف ایک اہم قدم ہے جہاں ٹیکنالوجی اور انتظامیہ کا استعمال شہریوں کی سہولت اور حفاظت کو یقینی بنانے میں معاون ہوگا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








