بینکنگ کی دنیا کھلبلی مچ گئی! آخر ایسا کیا ہوا کہ بائی ٹیانہوئی کو سزائے موت دے دی گئی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ)

چین میں بدعنوانی کے خلاف سخت کارروائی جاری ہے اور اسی سلسلے میں ایک اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب عدالت نے سابق سینئر بینکار بائی ٹیانہوئی (Bai Tianhui) کو کرپشن اور بھاری رشوت لینے کے جرم میں سزائے موت دے کر فیصلے پر عمل درآمد کردیا۔ عدالت کے مطابق بائی نے اپنی سرکاری حیثیت اور اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے 1.108 ارب یوان (تقریباً 155 ملین امریکی ڈالر) رشوت وصول کی تھی۔

پس منظر

بائی ٹیانہوئی چین کی معروف مالیاتی کمپنی China Huarong International Holdings میں جنرل منیجر کے عہدے پر فائز تھے۔ 2024 میں ٹرائل کورٹ نے انہیں کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی تھی۔

بعد ازاں انہوں نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی، تاہم فروری 2025 میں Tianjin High People’s Court نے سزا برقرار رکھی۔ اپیل مسترد ہونے کے بعد Supreme People’s Court نے بھی فیصلے کی توثیق کی، جس کے بعد سزا پر عمل درآمد کیا گیا۔

عدالت کے مشاہدات

عدالتی ریکارڈ کے مطابق بائی ٹیانہوئی نے 2014 سے 2018 کے دوران بڑے مالیاتی منصوبوں کی فنانسنگ اور خریداری میں مختلف کمپنیوں کو فائدے پہنچانے کے بدلے بھاری رقوم وصول کیں۔ ان اقدامات کو عدالت نے ریاست اور عوامی مفاد کے لیے شدید نقصان دہ اور ملک کی مالیاتی سالمیت کے لیے سنگین خطرہ اور بدعنوانی کی ایک انتہائی سنگین مثال قرار دیا۔

اثاثوں کی ضبطگی سزا کے ساتھ عدالت نے بائی ٹیانہوئی کی تمام ذاتی جائیداد ضبط کرنے، ان کے سیاسی حقوق تاحیات ختم کرنے اور ناجائز ذرائع سے حاصل کی گئی تمام رقم ریاست کے خزانے میں جمع کرانے کا حکم بھی دیا۔

چین میں گزشتہ چند برسوں سے بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت اعلیٰ حکومتی و مالیاتی شخصیات کے خلاف سخت کارروائیاں جاری ہیں اور بائی ٹیانہوئی کی پھانسی اسی سلسلے کی نمایاں مثال قرار دی جا رہی ہے۔

Related Posts