گوجرہ میں عدالت کے باہر اس وقت رقت انگیز مناظر دیکھنے میں آئے جب ایک معصوم 11 سالہ بچہ اپنے والد کے ساتھ جانے کی ضد پر چیختا، بلکتا اور گڑگڑاتا رہا۔ بچے کی درد بھری فریاد نے کچہری میں موجود ہر شخص کو آبدیدہ کر دیا۔
ذرائع کے مطابق سمندری کی صالحہ فاطمہ اور گوجرہ کے عمران کے درمیان طلاق کے بعد عدالت نے بچے کی حضانت ماں کے حوالے کرنے کا فیصلہ دیا تھا۔ تاہم بچہ اپنے والد کی محبت میں بے قرار ہو گیا اور خود ہی تقریباً 40 کلو میٹر کا سفر طے کر کے والد کے پاس جا پہنچا۔
آج پولیس جب بچے کو عدالتی کارروائی کے لیے عدالت لے کر آئی تو دروازے پر کھڑا معصوم عمر بار بار ایک ہی فریاد دہراتا رہا کہ وہ اپنے والد کے ساتھ جانا چاہتا ہے۔ بچے نے روتے ہوئے کہا کہ اگر اسے والد کے ساتھ نہ بھیجا گیا تو وہ خود کو نقصان پہنچا لے گا۔
بچے کی چیخ و پکار سن کر کچہری میں موجود افراد کی بڑی تعداد جمع ہو گئی اور ہر آنکھ اشکبار نظر آئی۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ طلاق کے معاملات میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا فریق بچے ہوتے ہیں، جن کی ذہنی اور جذباتی کیفیت کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
واقعے نے ایک بار پھر معاشرے میں بڑھتی ہوئی طلاقوں اور بچوں کی نفسیاتی مشکلات پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








