پاکستان کے بتدریج مخدوش ہوتے ہوئے حالات کے پیش نظر اکثر والدین اپنی تمام تر کوششیں، کاوشیں اور جمع پونجی بروئے کار لاتے ہوئے اپنے بچوں کے تابناک مستقبل کی راہیں ہموار کرنے کیلئے اپنا تمام جذباتی اور معاشی سرمایہ لگا کر ملک سے باہر بھیج دیتے ہیں۔
یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان والدین کا اپنا بڑھاپا اپنی آسائشوں کو ختم کرکے اس تنہائی، جذباتی کسمپرسی اور کئی اعتبار سے معاشی پسماندگی کو برداشت کرتے ہوئے گزرے گا، وہ بچو ں کے بہترین مستقبل کے حصول کی کوششیں جاری رکھتے ہیں لیکن جب ایسے والدین خود ریٹائرمنٹ کے بعد زندگی کے آخری حصے تک پہنچتے ہیں تو انہیں کچھ اس قسم کے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو بذاتِ خود کسی قربانی سے کم نہیں ہوتے، یعنی تنہائی اور انتظام و انصرام میں دشواریاں اور ساتھ ہی ساتھ اپنی زندگی میں جس انداز میں بچت کی جاسکتی تھی اور سرمایہ اور جمع پونجی بچائی جاسکتی تھی، بچوں کو ملک سے باہر بھیجنے کی پاداش میں وہ جمع پونجی کھو بیٹھنے کے سبب انہیں اپنی ضروریات کو محدود بھی کرناپڑجاتا ہے۔
اس کا جذباتی پہلو یہ بھی ہے کہ والدین اپنی آسائش، اپنی آخری عمر کے مستقبل کی ضمانت اور صحت وخوشحالی کو اس لیے قربان کرتے ہیں تاکہ ان کے بچے آگے چل کرایک اچھی زندگی گزار سکیں اور وہ یہ جانتے ہوئے بھی ایسا کرگزرتے ہیں کہ کہ زندگی کے آخری حصے میں انہیں ذہنی تناؤ، تنہائی کا احساس اور بچوں کی بیرونِ ملک فلاح و بہبود کی فکر میں اپنے آخری ایام گزارنے پڑیں گے۔
کئی اعتبار سے اگر وہ اپنے بچوں کو بیرونِ ملک نہ بھیجتے تو انہیں آسائشیں میسر آنے کے امکانات روشن ہوجاتے اور اگر وہ اپنے معاشی حالات کو مستقبل کے آرام و آسائش کیلئے مستحکم رکھتے تو اپنی ضروریات کو محدود کرنے کی بھی ضرورت پیش نہ آتی اور یقیناً اس کے علاوہ زندگی کے آخری حصے میں ان کی زندگی میں محدود سماجی سرگرمیوں کے باعث ان کی معاشرتی ہم آہنگی بھی محدود سے محدود تر ہوتی جاتی ہے۔
یہ تو رہا ان مڈل کلاس افراد کا احوال جو اکثر سیلف میڈ ہوا کرتے ہیں ، لیکن اس سے ہٹ کر معاشرے کے وہ مزدور اور کسان اور ایسے لوگ جو غربت کی لکیر کے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں، وہ اپنے مال مویشی اور اسباب بیچ کر اپنے بچوں کو ملک سے باہر بھیجنے میں سہولت کاری بھی کرتے ہیں تاکہ وہ غیر قانونی طریقے سے بھی کسی ترقی یافتہ ملک میں داخل ہوسکیں اور اپنا مستقبل سنوار سکیں اور والدین کے بڑھاپے کا سہارا بنانے کیلئے وہاں سے ماہانہ بنیادوں پر ا ن کو دیارِ غیر سے کچھ رقم بھی بھیج سکیں، لیکن اکثر ایسے خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوپاتے۔
اس کی 2 وجوہات ہیں ۔ اوّل تو یہ کہ ایسے والدین کے بچے جب غیر قانونی طور پر ملک سے باہر جاتے ہیں تو ان میں سے بہت سارے سمندر برد بھی ہوجاتے ہیں اور جو بچ نکلتے ہیں اور کسی یورپی ملک میں جا پہنچتے ہیں وہ خود دیارِ غیر میں بڑی تنگدستی اور کسمپرسی کا سامنا کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں اور جو بہتر حالات کے حصول میں کامیاب ہوبھی جائیں تو ان کو اتنی جدوجہد کرنی پڑتی ہے کہ وہ اپنے وطن میں رہائش پذیر باقی ماندہ خاندان سے کٹ کر رہ جاتے ہیں اور ان کے دلوں میں اپنے بوڑھے والدین کیلئے جنہوں نے ان کیلئے ماضی میں اپنی جمع پونجی تک قربان کردی تھی اور اپنا مال اسباب تک بیچ ڈالا تھا، ان کے بڑھاپے کا سہارا بننے کیلئے کوئی احساس باقی نہیں رہتا۔
ملکی حالات، معاشی مسائل اور قومی سلامتی کے مسائل سمیت دیگر عوامل پر غور کیا جائے تو ایسی صورت میں محنت مزدوری کرنے والوں اور اعلیٰ تعلیم یافتہ اورماہرافراد کا ملک کی خدمت کرنے کی بجائے ملک سے باہر چلے جانا جسے برین ڈرین سے تعبیر کیاجاتا ہے، اس کی وجہ سے ملک بھی اپنی جواں سال افرادی قوت اور ماہرین سے استفادہ کرنے سے محروم ہوجاتا ہے، اور یہ ملک کیلئے نقصان دہ بھی ہے ۔
حکومت کے معاشی ترقی کے دعووں کے باوجود اسٹیٹ بینک کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی 4ماہ میں بیرونی سرمایہ کاری میں 82فیصد کمی ہوئی۔ وزارت منصوبہ بندی و ترقی کے لیبر فورس سروے میں کہا گیا کہ ملک میں بے روزگاری کی شرح 7اعشاریہ 1فیصد ہے جو دو دہائیوں کی بلند ترین شرح ہے۔ پاکستان میں بے روگاری کی شرح میں 31فیصد کا اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں مزید 14لاکھ افراد بے روزگار ہوگئے۔ اور 65سال یا زائد العمر افراد بھی زندگی کا پہیہ چلانے کیلئے کمانے پر مجبور ہیں یا تو ان کے بچے بے روزگار ہیں یا پھر ان کی آمدنی اتنی کم اور محدود ہے کہ وہ اپنے والدین کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں۔
ستم ظریفی تو یہ ہے کہ جب یونیورسٹیز میں میری طلبہ اور نوجوانانِ ملت سے ملاقات ہوتی ہے تو یہی تأثر ملتا ہے کہ تقریباً ہر شخص ملک سے باہر جانے کیلئےتیار ہے اور یہ رجحان اس وقت تک جاری رہتا نظر آتا ہے جب تک میرے دیس کے ان جوانوں کو امید کی کوئی کرن نظر نہ آجائے اور امید کی کرن اسی صورت نظر آئے گی جب پاکستان کے حالات معاشی اعتبار سے بہتر ہوسکیں اورنوجوانوں کو اپنی تعلیم اور مستقبل کی بہتری اپنے ہی وطن میں نظر آسکے۔
ایسی صورت میں ضروری طور پر حکومت کو اپنی تعلیمی اصلاحات کو بہت دانشمندی سے بہتر کرنے کے ساتھ ساتھ معاشی مواقع تخلیق کرنا ہو ں گے۔ ایک تخمینے کے مطابق ہر سال ڈھائی لاکھ نوجوان جاب مارکیٹ میں شامل ہوتے ہیں جس میں سے بمشکل تمام ایک سے ڈیڑھ لاکھ افراد کو نوکری ملنے کے امکانات ہوتے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کے اکابرین کو چاہئے کہ اپنے تمام تر ذرائع جو پہلے سے موجود ہیں، انہیں بہتر طریقے سے بروئے کار لاتے ہوئے ہنر مندی اور اچھی تعلیم کی راہیں ہموار کی جائیں اور تعلیمی اداروں سے سیاسی عمل دخل کو بالکل الگ کیا جائے۔
دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ ملک کی ہر یونیورسٹی میں کسی نہ کسی طریقے سے سیاسی اثر کے ذریعے یونیورسٹی کے تمام اداروں میں نہ صرف سیاسی بھرتیاں بلکہ سیاسی مداخلت کی وجہ سے تعلیم کا معیار بتدریج گرتا جارہا ہے اور نوجوانانِ ملت جب تعلیم حاصل کرکے فارغ التحصیل ہوتے ہیں تو ان کی ڈگریاں کاغذ کے پرزوں سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتیں کیونکہ ا نہیں ایسی ڈگریوں سے جاب مارکیٹ میں بہت کم فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔
ایک لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو ہم دامے درمے سخنے اس کوشش میں ملکی اکابرین اور ملک کے افراد کو یہ کرنا پڑے گا جیسا کہ چین یا بھارت نے کیا کہ ایسے حالات اپنے ملک میں پیدا کیے گئے اور ایسی بہتری لائی گئی کہ جس سے ان کے بیرونِ ملک گئے ہوئے افراد اپنے اپنے وطن کو لوٹنا شروع ہوگئے کیونکہ اپنے ملک میں انہیں بیرونِ ملک کے مقابلے میں یا اسی سے ملتے جلتے مواقع میسر آنا شروع ہوگئے تھے۔
ایسی صورتحال سے ہمیں اور ہمارے والدین جنہوں نے اتنی قربانیاں دے کر اپنے بچوں کو ملک سے باہر بھیجا، وہ اور ان کے ساتھ ساتھ ان کے بچوں کا مستقبل بھی بہتر سمت میں آگے بڑھ سکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








