پاکستان میں سرکاری مواصلاتی نظام کو محفوظ اور خودمختار بنانے کے لیے ملک کی پہلی مقامی طور پر تیار کردہ سیکیور کمیونیکیشن ایپ بیپ پاکستان کو مرحلہ وار متعارف کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس ایپ کا سرکاری نام بیک اینڈ الیکٹرانک میسجنگ پلیٹ فارم ہے جسے غیر ملکی میسجنگ ایپس خصوصاً واٹس ایپ کے متبادل کے طور پر تیار کیا گیا ہے۔
یہ ایپ نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (این آئی ٹی بی) نے تیار کی ہے اور اسے تمام متعلقہ اداروں سے مکمل سرٹیفکیشن حاصل ہے۔ حکام کے مطابق بیپ پاکستان کا پہلا مرحلہ 2026 کے آغاز میں وفاقی وزارتوں اور ان سے منسلک محکموں میں نافذ کیا جائے گا۔ سرکاری سطح پر کامیاب نفاذ کے بعد تقریباً ایک سال کے اندر اسے عام عوام کے لیے بھی دستیاب کر دیا جائے گا جبکہ ہدف ہے کہ جون 2026 تک یہ پلیٹ فارم مکمل طور پر فعال ہو جائے۔
واٹس ایپ سمیت دیگر غیر ملکی ایپس کے برعکس بیپ پاکستان کا تمام ڈیٹا پاکستان کے اندر موجود مقامی سرورز پر محفوظ کیا جائے گا جس سے حساس سرکاری معلومات پر قومی سطح پر مکمل کنٹرول ممکن ہو سکے گا۔ ایپ میں ٹیکسٹ میسجنگ کے لیے اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن، اعلیٰ معیار کی وائس اور ویڈیو کالز کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔
یہ ایپ وفاقی ای آفس سسٹم کے ساتھ مکمل طور پر مربوط ہو گی جسکے ذریعے سرکاری افسران ایک ہی ڈیجیٹل ماحول میں دستاویزات کا تبادلہ کر سکیں گے اور دفتری امور کو زیادہ منظم اور مؤثر بنایا جا سکے گا۔
حکام کے مطابق بیپ پاکستان کو چین کی وی چیٹ طرز کی ایک جامع اور یکجا پلیٹ فارم کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے جو غیر ملکی ڈیٹا ہوسٹنگ سے جڑے خطرات کو ختم کرے گا اور سائبر سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنائے گا۔ ایپ کو استعمال پر مبنی فیس ماڈل کے تحت چلایا جائے گا تاکہ این آئی ٹی بی کی مالی خود کفالت کو یقینی بنایا جا سکے۔
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں غیر ملکی میسجنگ ایپس کے ذریعے سرکاری مواصلات ڈیٹا پرائیویسی اور قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتے ہیں۔ بیپ پاکستان کا آغاز ڈیجیٹل پاکستان ویژن کا حصہ ہے جس کا مقصد سرکاری ملازمین کے لیے ایک محفوظ، مؤثر اور قابلِ اعتماد مواصلاتی نظام فراہم کرنا ہے۔
نیشنل کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (نیشنل کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم) نے اس ایپ کو سرکاری استعمال کے لیے کلیئر کر دیا ہے۔ مستقبل میں اسے عوامی سطح پر وسعت دینے پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاہم ابتدائی مرحلے میں اس کی توجہ سرکاری اداروں تک محدود رکھی گئی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








