دنیا بھر میں صحافت اور آزادئ اظہار پر رپورٹ: تکلیف دہ حقائق سامنے آگئے

تازہ ترین

تازہ ترین

آزادئ اظہار
(فوٹو: آن لائن)

پاکستان سمیت دنیا بھر میں صحافت اور آزادئ اظہار پر رپورٹ میں تکلیف دہ حقائق سامنے آگئے، اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کا کہنا ہے کہ 12 سال میں آزادئ اظہار میں 10فیصد کی شرمناک کمی ہوئی۔ 

تفصیلات کے مطابق یونیسکو نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا کہ سال 2012 سے 2024 تک صحافیوں پر حملوں میں اضافہ ہوا جبکہ آزادئ اظہار میں 10فیصد کمی ہوئی جو گزشتہ کئی دہائیوں میں بد ترین شرح قرار دی گئی ہے۔

بڑھتے ہوئے حملوں اور اظہارِ رائے پر اَن چاہی قدغنوں کے باعث صحافیوں میں سیلف سینسر شپ کا رجحان 63فیصد تک بڑھ گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ 3 سال میں 186صحافیوں کو قتل کردیا گیا جبکہ 2025 میں 93صحافی جاں بحق ہوئے۔

زیادہ تر صحافیوں کو جنگی علاقو میں قتل کیا گیا۔ یونیسکو کی رپورٹ میں اعتراف کیا گیا کہ خواتین صحافی آن لائن حملوں کا شکار ہیں جن میں 75فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ عالمی برادری صحافت کو آزاد، مضبوط اور پیشہ ورانہ بنائے۔

ایک جانب تو صحافی برادری کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی انجام دہی کیلئے آزادئ اظہار کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے عوام تک حقائق پہنچانے ہوتے ہیں تو دوسری جانب سیاست دان اور حکمرانوں سمیت ملک کا مقتدر طبقہ اس کے خلاف ہوتا ہے۔

یہی نہیں بلکہ آزادئ اظہار صحافی برادری کے ساتھ ساتھ عام سوشل میڈیا صارفین کیلئے بھی مسائل کا باعث بنتی ہے۔ سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو جنسی درندوں اور نفسیاتی مریضوں کے حملوں کا سامنا ہے جو جنسی ہراسانی سے قتل تک بے شمار سنگین جرائم کا باعث بنتے ہیں۔

Related Posts