ایران نے غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے والے 40 افغان شہریوں کو بھون ڈالا! متعدد تاحال لاپتہ

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

ایران اور افغانستان کی سرحد پر شدید سرد موسم اور برفباری کے دوران افغان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد نے غیر قانونی طور پر ایران میں داخل ہونے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں کم از کم 40 افراد ہلاک ہو گئے تاہم سرکاری طور پر ہلاکتوں کی تصدیق ابھی نہیں ہو سکی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سینکڑوں افغان شہری اسلام قلعہ کے غیر سرکاری راستوں کے ذریعے ایران کے شہر تایباد کی طرف جا رہے تھے۔

ذرائع نے بتایا کہ کم از کم 15 لاشیں ایران کے کوہسان اور ادرا سکین اضلاع میں منتقل کی گئی ہیں جبکہ مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 40 تک پہنچنے کا تخمینہ ہے۔ ایران کے رضوی خراسان صوبے کے تایباد ہسپتال اور افغان قبرستانوں میں بھی 40 سے زائد لاشیں پہنچ چکی ہیں۔ کئی مہاجرین ابھی لاپتہ ہیں اور متاثرہ خاندان اپنے پیاروں کی لاشیں تلاش کر رہے ہیں۔

یہ ہلاکتیں ایران کی جانب سے افغان مہاجرین پر کریک ڈاؤن اور بڑے پیمانے پر ڈیپورٹیشنز کے تناظر میں سامنے آئی ہیں۔ 2025 میں ایران سے 16 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین اور پناہ گزینوں کو ملک بدر کیا گیا جن میں جون اور جولائی کے دوران ایران اور اسرائیل کے درمیان مختصر جنگ کے بعد اضافہ دیکھا گیا۔ ایرانی حکام نے قومی سلامتی کے حوالہ سے الزام لگایا کہ افغان شہریوں نے جنگ کے دوران اسرائیل کے لیے جاسوسی کی۔

ایران نے سرحدی کنٹرول سخت کر دیے ہیں، جس سے سرحد پر انسانی بحران پیدا ہو گیا ہے اور عالمی سطح پر تنقید کی جا رہی ہے کہ یہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ رواں سال اکتوبر تک ختم ہونے والے چھ ماہ میں افغانوں کی غیر قانونی سرحد عبور کرنے کی کوششیں گزشتہ سال کے مقابلے میں دگنی ہو گئی ہیں۔

Related Posts