بھارتی ریاست ہماچل پردیش میں مسلمان شال فروش کو جنونی ہجوم نے بدسلوکی کا نشانہ بنایا ہے۔ جسے زبردستی بھارت ماتا کی جے جیسے نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق نریندر مودی حکومت کی ملی بھگت سے بھارتی جنونی ہجوم عوامی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کرتے ہوئے بھارتی آئین کو پیروں تلے روند رہے ہیں۔ ہماچل میں رزق کمانے کیلئے شمالی کشمیر کے علاقے کپواڑہ سے آئے ہوئے شال فروش کو ڈرایا دھمکایا اور نعرے بازی پر مجبور کیا گیا۔ اسے کہا گیا کہ اگر کاروبار کرنا چاہتے ہو تو ہماری شرائط پر بھارت سے حب الوطنی ثابت کرو۔
اس حوالے سے بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ کشمیری شال فروش کے ساتھ پیش آیا ہوا یہ واقعہ بھارتی آئین کی خلاف ورزی کے مترادف ہے جو شہریوں کے تنوع اور باہمی احترام کو فروغ دیتا ہے۔ جب تاجر نے واضح کیا کہ وہ بھارتی آئین کے مطابق اپنی مرضی سے حب الوطنی کا اظہار کرے گا تو اسے بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا۔
اس حوالے سے جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کا حوالہ دیتے ہوئے بھارتی میڈیا نے کہا کہ ایسوسی ایشن کے قومی کنوینر ناصر خوہامی نے بتایا کہ بھارت میں کشمیری تاجروں کے ساتھ ایسے واقعات ماضی میں بھی پیش آئے اور یہ 15واں واقعہ ہے، جنونی ہجوم کشمیریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ بھارتی آئین سمیت دنیا کا کوئی بھی آئین کسی بھی شہری کو خاص قسم کے نعرے لگا کر اپنی حب الوطنی کا ثبوت دینے پر مجبور نہیں کرتا۔ بھارت میں جنونی ہجوم دھونس اور دھمکی کے ذریعے مسلمان شہریوں پر عرصہ حیات تنگ کرنے کیلئے سرگرمِ عمل ہیں اور مودی حکومت اس عمل کو ہوا دینے میں ملوث ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








