سعودی عرب کے مقدس شہر مکہ مکرمہ میں منشیات اسمگلنگ کے جرم میں دو پاکستانی شہریوں کو سزائے موت دے دی گئی۔سعودی وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دونوں افراد ہیروئن اور دیگر ممنوعہ منشیات کو جسم کے مختلف حصوں میں چھپا کر مملکت میں اسمگل کرنے کی کوشش کر رہے تھے جس پر انہیں گرفتار کیا گیا۔
سعودی وزارتِ داخلہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ملزمان کے خلاف مقدمہ عدالت میں پیش کیا گیا جہاں جرم ثابت ہونے پر انہیں سزائے موت سنائی گئی۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے بھی سزا کے خلاف دائر اپیل مسترد کر دی، جس کے بعد شاہی فرمان جاری ہوا اور آج مکہ مکرمہ میں سزائے موت پر عمل درآمد کر دیا گیا۔
سعودی وزارتِ داخلہ نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ منشیات کی اسمگلنگ اور اس سے متعلق جرائم میں ملوث افراد کے خلاف مملکت سخت ترین قانونی کارروائی جاری رکھے گی تاکہ معاشرے کو اس ناسور سے محفوظ رکھا جا سکے۔
واضح رہے کہ برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ریپریو کے مطابق، سعودی عرب میں 2025 کے دوران اب تک کم از کم 347 افراد کو سزائے موت دی جا چکی ہے جو گزشتہ سال 345 سزاؤں کے ریکارڈ سے بھی زیادہ ہے۔ ان میں بڑی تعداد غیر ملکی شہریوں کی ہے جن میں سے اکثر کو منشیات سے متعلق جرائم میں سزا سنائی گئی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








