بھارتی ریاست پنجاب کے شہر پٹیالہ میں ایک سابق اعلیٰ پولیس افسر بڑے پیمانے پر سائبر فراڈ کا شکار ہونے کے بعد شدید ذہنی دباؤ میں آکر اپنے آپ کو گولی مار لی جس کے باعث وہ شدید زخمی ہوگئے۔ اہلخانہ نے انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا جہاں ان کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
بھارتی پنجاب کے شہر پٹیالہ کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ورون شرما کے مطابق متاثرہ شخص سابق آئی پی ایس افسر امر سنگھ چہل ہیں جو ماضی میں پنجاب میں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) کے عہدے پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔
پولیس کے مطابق سائبر کرمنلز نے امر سنگھ چہل کو واٹس ایپ اور ٹیلیگرام گروپس کے ذریعے اپنے جال میں پھنسایا۔ ملزمان نے انہیں اسٹاک ٹریڈنگ، آئی پی او الاٹمنٹ اور او ٹی سی ٹریڈنگ میں غیر معمولی منافع کی یقین دہانی کروائی جس پر انہوں نے سرمایہ کاری شروع کی۔
سائبر فراڈ میں ملوث افراد نے ایک جعلی آن لائن ڈیش بورڈ کے ذریعے دکھایا کہ سرمایہ کاری پر بھاری منافع حاصل ہو رہا ہے جس سے متاثر ہو کر سابق افسر نے مزید رقم لگا دی۔ بعد ازاں سرمایہ نکالنے کیلئے انہیں سروس چارجز اور ٹیکس کے نام پر مزید بھاری رقوم ادا کرنے پر مجبور کیا گیا۔
جب رقم واپس نہ مل سکی تو امر سنگھ چہل کو اندازہ ہوا کہ وہ مجموعی طور پر 8 کروڑ 10 لاکھ انڈین روپے کے سائبر فراڈ کا شکار ہو چکے ہیں۔ پولیس کے مطابق اس صورتحال پر وہ شدید ذہنی دباؤ اور شرمندگی میں مبتلا ہو گئے۔
واقعے سے قبل سابق آئی پی ایس افسر نے 12 صفحات پر مشتمل ایک نوٹ تحریر کیا جس میں فراڈ کی مکمل تفصیلات درج کرتے ہوئے پنجاب کے ڈی جی پی سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے۔
بعد ازاں انہوں نے خود کو زخمی کر لیا۔ انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ پولیس واقعے کی مزید تحقیقات کر رہی ہے اور سائبر فراڈ میں ملوث عناصر کی تلاش جاری ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








