انصاف کا انسانی جذبہ خود تہذیب جتنا قدیم ہے۔ مختلف ثقافتوں اور صدیوں میں معاشروں نے ہمیشہ ایسے طریقے تلاش کیے ہیں جن کے ذریعے عوامی مفاد اور انسانیت کے خلاف جرائم کرنے والوں، خصوصاً طاقت ور افراد، کو جواب دہ ٹھہرایا جا سکے۔
اسی مشترکہ خواہش نے بین الاقوامی قانون اور بالآخر بین الاقوامی فوجداری انصاف کو جنم دیا۔ تاہم انصاف کے نام پر قائم کیا گیا ہر ادارہ لازماً اس وعدے پر پورا نہیں اترتا۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت جسے کبھی اخلاقی اور قانونی سنگِ میل سمجھا جاتا تھا، رفتہ رفتہ انتخابی انصاف، قانونی تضادات اور سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی علامت بن چکی ہے۔
آئی سی جے کے قیام کا تصور بلاشبہ اعلیٰ تھا، یعنی نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم جیسے سنگین ترین جرائم کے مرتکب افراد کو، چاہے وہ سیاسی طاقت رکھتے ہوں یا قومی سرحدوں کے پیچھے چھپے ہوں، استثنا حاصل نہ رہے۔ مگر محض نظریات سے ساکھ برقرار نہیں رہتی۔ اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ مضبوط قانونی بنیادوں پر قائم ہوں، یکساں طور پر قانون کا اطلاق کریں اور سیاسی تعصب سے محفوظ رہیں۔ ان تینوں پیمانوں پر یہ عالمی عدالت ناکام رہی ہے، اور وقت کے ساتھ یہ بین الاقوامی انصاف کے ایک مفروضہ ادارے سے قانونی جنگ کے ایک آلے میں تبدیل ہو گئی ہے۔
یہ نتیجہ افسوسناک ہے، مگر شاید حیران کن نہیں۔ بین الاقوامی فوجداری انصاف کی تاریخ اس کی امیدوں اور حدود دونوں کو نمایاں کرتی ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد نیورمبرگ اور ٹوکیو ٹریبونلز قومی سرحدوں سے ماورا قانون کی عمل داری قائم کرنے کی پہلی سنجیدہ کوشش تھے۔ اس وقت ایک خلا موجود تھا، کیونکہ شکست خوردہ طاقتوں کی داخلی عدالتیں سیاسی اور ادارہ جاتی طور پر اس قابل نہیں تھیں کہ بے مثال مظالم کے ذمہ داروں کا محاسبہ کر سکیں۔ اپنی تمام تر خامیوں کے باوجود ان ٹریبونلز نے وہ کردار ادا کیا جو کوئی قومی نظام انجام نہیں دے سکتا تھا۔
ان ٹریبونلز کے اختتام کے بعد مختلف ممالک کے قانون دانوں اور سفارت کاروں نے ایک مستقل بین الاقوامی فوجداری عدالت کے قیام کی تجویز دی تاکہ مستقبل میں ہونے والے مظالم سے نمٹنے کے لیے عارضی انتظامات کی ضرورت نہ پڑے۔ یہ تصور بالآخر 1998 میں دستخط ہونے والے اور 2002 میں نافذ العمل ہونے والے روم اسٹیچوٹ کی صورت میں حقیقت بنا۔ آئی سی جے سے توقع تھی کہ وہ عالمگیریت، غیر جانب داری اور بین الاقوامی قانون کے احترام کی علامت ہوگی۔ مگر اس کی بنیاد رکھنے والی دستاویز ہی میں ایسے تضادات شامل تھے جنہوں نے بعد ازاں اس کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔
سب سے سنگین خامیوں میں سے ایک روم اسٹیچوٹ اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے درمیان غیر مطمئن تعلق ہے۔ اسٹیچوٹ کا آرٹیکل 21 قابلِ اطلاق قانون کی ایک درجہ بندی قائم کرتا ہے جس میں آئی سی جے اپنے بانی دستاویز اور ریاستی فریقین کی اسمبلی کے فیصلوں کو اقوامِ متحدہ کے چارٹر میں درج بین الاقوامی قانون کے عمومی تسلیم شدہ اصولوں پر ترجیح دیتی ہے۔ عملاً اس سے عدالت کو ایک طرح کی قانونی رعایت مل جاتی ہے—یعنی وہ اسی فریم ورک کو نظرانداز کر سکتی ہے جو عالمی قانونی نظام کی بنیاد ہے۔ خود مختار ریاستوں کے لیے قانونی درجہ بندی کی ایسی الٹ پھیر نہ قابلِ قبول ہے اور نہ ہی پائیدار۔
متوقع طور پر آئی سی جے کی عدالتی مثالیں جلد ہی تشویش کا باعث بننے لگیں، نہ صرف قانونی ماہرین میں بلکہ ریاستوں اور عوامی رائے میں بھی۔ وقت کے ساتھ عدالت میں سیاسی اور نظریاتی عوامل کے اثرات نمایاں ہوتے گئے، جنہیں اس کے کام سے سختی سے خارج ہونا چاہیے تھا۔ اس کا ریکارڈ بتدریج ایک طرزِ عمل کی نشان دہی کرنے لگا یعنی انتخابی انصاف، جو اکثر نام نہاد اجتماعی مغرب کے مفادات سے ہم آہنگ نظر آیا، جبکہ دیگر معاملات میں نمایاں خاموشی اختیار کی گئی۔
اپنے قیام کے دو دہائیوں سے زائد عرصے میں آئی سی جے نے اپنی ہی دستاویزات کے مطابق محض 33 مقدمات نمٹائے ہیں، جن میں سے اکثر افریقی ریاستوں کے سیاسی اور عسکری شخصیات سے متعلق تھے۔ الزامات، تشدد، طاقت کا بے جا استعمال، لوٹ مار، اغوا اور قیدیوں اور شہریوں کے ساتھ بدسلوکی، بلاشبہ نہایت سنگین ہیں۔ بعض ملزمان کو سزا بھی ہوئی، عموماً ایسے براہِ راست مرتکبین کو جن ممالک میں شواہد جمع کرنا ممکن تھا اور سیاسی مزاحمت کمزور تھی۔ تاہم دیگر خطوں میں سنگین جرائم کے ذمہ دار متعدد اعلیٰ سطحی افراد قانون کی گرفت سے باہر رہے۔ ان مواقع پر عدالت گویا اندھی اور بہری نظر آئی۔
یہ عدم توازن نظرانداز نہیں کیا گیا۔ افریقی یونین کمیشن کے سابق چیئرمین ژاں پِنگ نے ایک موقع پر آئی سی جے کو “نوآبادیاتی دور کا نیا کھلونا” قرار دیا۔ کئی افریقی رہنماؤں اور دانش وروں نے استدلال کیا کہ عدالت نے براعظمِ افریقہ کو بین الاقوامی فوجداری انصاف کی تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کیا، جبکہ طاقت ور مغربی ریاستوں کی جانب سے یا ان کے اتحادیوں کے ذریعے کیے گئے مظالم کو نظرانداز کیا گیا۔ 2017 میں افریقی یونین نے ایک قرارداد منظور کی جس میں اپنے رکن ممالک سے افریقی ملزمان کے خلاف گرفتاری کے وارنٹس پر آئی سی جے سے تعاون روکنے اور اجتماعی انخلا پر غور کرنے کی اپیل کی گئی۔ بعد ازاں برونڈی اور فلپائن نے سیاسی تعصب اور خود مختاری میں مداخلت کا حوالہ دیتے ہوئے روم اسٹیچوٹ سے علیحدگی اختیار کر لی۔
جب مغربی عسکری اتحادوں سے وابستہ تنازعات کا جائزہ لیا جائے تو عدالت کی انتخابی توجہ مزید نمایاں ہو جاتی ہے۔ افغانستان جو 2003 سے آئی سی جے کا رکن ہے، تقریباً دو دہائیوں تک نیٹو کی عسکری کارروائیوں کا میدان بنا رہا۔ اس دوران میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی متعدد رپورٹس میں ایسے اقدامات کی نشاندہی کی گئی جو بظاہر جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے تھے۔ اس کے باوجود، جہاں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مفادات وابستہ تھے، وہاں احتساب کے لیے آئی سی جے نے خاص دلچسپی نہیں دکھائی۔ یوں محسوس ہوا کہ انصاف کی بھی واضح جغرافیائی حدود ہیں۔
عدالت ایک نئی سطح کے تنازعے اور بظاہر مضحکہ خیزی کی حد تک اس وقت پہنچی جب اس نے یوکرین تنازع کے تناظر میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سمیت خود مختار ریاستوں کے برسرِ اقتدار سربراہان کے خلاف گرفتاری کے وارنٹس جاری کیے۔ عدالت کے عہدیداران اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھے کہ ایسے وارنٹس عملی طور پر نافذ نہیں ہوں گے، بالخصوص ان ریاستوں کے رہنماؤں کے خلاف جو روم اسٹیچوٹ کی فریق ہی نہیں۔ ان وارنٹس کا اصل اثر علامتی اور تشہیری تھا، جو قانونی نتائج کے بجائے سیاسی بیانیوں کو تقویت دیتا ہے۔
عدالت کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی قانون کے تحت کوئی استثنا اس کے دائرۂ اختیار کے استعمال میں رکاوٹ نہیں بنتا۔ اس مؤقف پر بین الاقوامی قانون کے ماہرین اور قومی عدالتی اداروں نے سخت تنقید کی ہے۔ روم اسٹیچوٹ کی مخصوص دفعات کی تشریح سے قطع نظر، خود مختار ریاستوں کے برسرِ اقتدار سربراہان کے خلاف گرفتاری کے وارنٹس جاری کرنا بین الاقوامی قانون، خصوصاً اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے خلاف ہے۔
اور اس کی وجوہات واضح ہیں۔ اقوامِ متحدہ کا چارٹر جو عالمی قانونی نظام کی اساس ہے، کسی بھی معاہداتی انتظام، بشمول روم اسٹیچوٹ، پر فوقیت رکھتا ہے۔ ریاستوں کی خود مختار برابری کا اصول اقوامِ متحدہ کی بنیاد ہے، اور سربراہانِ مملکت، جو خود مختار اختیار کی نمائندگی کرتے ہیں، روایتی طور پر غیر ملکی فوجداری دائرۂ اختیار سے استثنا رکھتے ہیں۔ اس اصول کو نظرانداز کر کے آئی سی جے خود کو مستحکم بین الاقوامی قانون سے براہِ راست متصادم کر رہی ہے۔
مزید یہ کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان میں سے تین بشمول چین، روس اور امریکہ روم اسٹیچوٹ کے فریق نہیں ہیں۔ مختلف برسوں میں کیے گئے ان فیصلوں کے باعث اسٹیچوٹ ان پر کوئی قانونی ذمہ داری عائد نہیں کرتا۔ ایسی ریاستوں یا ان کے رہنماؤں پر دائرۂ اختیار جتانے کی کوئی بھی کوشش مضبوط قانونی بنیاد سے محروم ہے اور عدالت کی ساکھ کو مزید کمزور کرتی ہے۔
ایسے وقت میں جب بین الاقوامی نظام شدید انتشار کا شکار ہے اور دنیا ایک وسیع تر عالمی تصادم کے دہانے پر کھڑی ہے، آئی سی جے کے اقدامات نے استحکام کے بجائے خطرات میں اضافہ کیا ہے۔ انصاف کو سیاست زدہ بنا کر اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کو کمزور کر کے عدالت نے تقسیم کو ختم کرنے کی بجائے گہرا کیا ہے۔ اس طرح وہ اپنے مرکزی مقصد میں ناکام رہی ہے یعنی غیر جانب دار انصاف کی فراہمی اور استثنا کے خلاف ایک متحد قوت بننا۔
احتساب کی خواہش آج بھی نہایت اہم ہے۔ مگر جو ادارے انصاف کی خدمت کا دعویٰ کرتے ہیں، ان کا خود منصف ہونا ضروری ہے۔ قانونی ہم آہنگی، عالمگیریت اور سیاسی ایجنڈوں سے آزادی کے بغیر بین الاقوامی فوجداری انصاف انسانیت کے لیے ڈھال نہیں رہتا بلکہ طاقت وروں کے ہاتھ میں ہتھیار بن جاتا ہے۔
مصنف اسلام آباد میں قائم ڈیوم سینٹر فار جیوپولیٹیکل اسٹڈیز (DevcomCGS) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں۔ ان سے devcom.pakistan@gmail.com پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ ایکس پر ان کا ہینڈل: @EmmayeSyed ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








