کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ گنا منڈی کے قریب ایک گھر سے ایک خاتون اور تین بچوں کی لاشیں پھندے لگی ہوئی حالت میں برآمد ہوئیں جس نے محلے میں خوف اور سنسنی پھیلا دی۔ پولیس نے ابتدائی طور پر اسے خودکشی کا معاملہ قرار دیا ہے تاہم تفصیلی تحقیقات جاری ہیں۔
پولیس کے مطابق متوفی افراد کی شناخت 35 سالہ فاطمہ (افغان نیشنل)، 10 سالہ سونم (پہلی بیوی سے) 3 سالہ آرزو اور 2 سالہ ارمان کے طور پر ہوئی ہے۔
گھر کے سربراہ نجیب اللہ (لیہ سے تعلق رکھنے والے اور سبزی منڈی میں کام کرنے والے) اور ان کے ایک بیٹے کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ابتدائی بیان میں نجیب اللہ نے بتایا کہ واقعہ گھریلو تنازعات کی وجہ سے پیش آیا۔ نجیب اللہ نے فاطمہ سے دوسری شادی کی تھی جو ان کی پہلی بیوی کو طلاق دینے کے بعد ہوئی اور فاطمہ سے ان کے دو بچے تھے جبکہ پہلی شادی سے پانچ بچے موجود ہیں۔
نجیب اللہ کے دوست نواب نے میڈیا کو بتایا کہ نجیب اللہ مالی طور پر مستحکم ہے، کاروبار اچھی طرح چل رہا تھا اور تین ماہ قبل انہوں نے نیا گھر خریدا تھا تاہم پہلی بیوی کے بچوں سے فون رابطے کی وجہ سے گھر میں اکثر جھگڑے ہوتے رہتے تھے۔ واقعے کے وقت نجیب اللہ کا ایک بیٹا منڈی میں موجود تھا۔
صوبائی وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی ایسٹ کو مکمل تحقیقات کی ہدایات جاری کی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور حتمی نتیجہ شواہد کے مکمل جائزے کے بعد سامنے آئے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








