افغان وزیرِ داخلہ سراج الدین حقانی نے پاکستانی علماء مولانا فضل الرحمن اور مفتی تقی عثمانی کے بیانات کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ حالات میں تبدیلی کا اشارہ دیا ہے۔
اپنے ایک بیان میں سراج الدین حقانی نے کہا کہ افغانستان کے بارے میں ہر اُس تنظیم اور ہر اُس فریق کے شکر گزار ہیں جو ہمارے ملک کے لیے نیک نیت اور خیر خواہی کے جذبات رکھتا ہے۔ ہم نہ صرف ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں بلکہ ان کی قدر بھی کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چند روز قبل پاکستان میں علماء کرام کی ایک اہم نشست منعقد ہوئی، جس میں جمعیت علمائے اسلام کے محترم سربراہ مولانا فضل الرحمٰن اور ممتاز عالمِ دین مفتی تقی عثمانی نے افغانستان کے حق میں خیر سگالی کے خیالات کا اظہار کیا، جس پر ہم ان تمام شخصیات کے تہہ دل سے مشکور ہیں۔
افغان وزیرِ داخلہ نے مزید کہا کہ گزشتہ روز پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے بھی افغانستان کے حوالے سے مثبت اور خیر خواہی پر مبنی بیانات سامنے آئے۔ اگر ممالک کے درمیان خیر سگالی، نیک تعامل اور مثبت روابط قائم ہوں اور قوموں کو ایک دوسرے کے قریب لایا جائے، تو ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ افغانستان خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کے لیے پُرعزم ہے اور تمام فریقوں کو یقین دلاتا ہے کہ افغان عوام کسی ملک یا قوم کے خلاف کسی قسم کے نقصان یا غلط سوچ کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔
افغان وزیرِ داخلہ نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ ہم نے اپنے وطن کی تعمیر و ترقی کا مضبوط فیصلہ کر لیا ہے، اب دوسروں کو بھی چاہیے کہ اس عمل میں ہمارے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔ ہم سے کسی کو کوئی تشویش نہیں ہونی چاہیے۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں مولانا فضل الرحمن کی صدارت میں کراچی میں مجلس اتحاد امت فورم کا انعقاد ہوا تھا، جس میں تمام مکاتب فکر کے جید علماء نے شکر کی تھی۔ اس موقع پر مولانا فضل الرحمن اور مفتی تقی عثمانی نے افغان حکومت کے ساتھ بات چیت سے مسائل حل کرنے پر زور دیا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








