یہ انسان ہیں یا جانور؟ اسلام آباد میں نیو ایئر نائٹ کی تقریب میں شدید طوفان بدتمیزی، ویڈیو

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو اسکرین گریب

اسلام آباد کے علاقے پارک ویو سٹی میں منعقد ہونے والی نئے سال کی تقریب میں بدترین بدنظمی، ہلڑ بازی، طوفان بدتمیزی اور ہنگامہ آرائی نے سب کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز اور تصاویر نے اس تقریب کو شدید تنقید کی زد میں لا دیا ہے۔

پارک ویو سٹی میں ہر سال کی طرح اس بار بھی نئے سال کے استقبال کے لیے ایک بڑے فیملی ایونٹ کا اہتمام کیا گیا تھا، تاہم تقریب کے دوران حالات اس قدر بگڑ گئے کہ انتظامیہ بے بس نظر آئی۔ وائرل ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سکیورٹی اہلکار دور کھڑے تماشائی بنے رہے جبکہ چند نوجوان ان پر پتھراؤ کرتے دکھائی دیے۔

اردو نیوز کے مطابق داخلے اور ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لیے مؤثر انتظامات موجود نہیں تھے۔ عام طور پر ایسے ایونٹس میں صرف نوجوان لڑکوں کو داخلے کی اجازت نہیں دی جاتی، مگر اس تقریب میں اس پالیسی پر بھی عمل ہوتا دکھائی نہ دیا۔ ایک ویڈیو میں ایک شخص یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ کئی افراد زبردستی اندر داخل ہوئے، نہ ٹکٹ خریدا اور نہ ہی سکیورٹی کی ہدایات مانیں، بلکہ باہر نکالے جانے پر دوبارہ اندر گھس آتے رہے۔

دوسری جانب بعض صارفین نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ٹکٹوں کی قیمتیں غیر معمولی طور پر زیادہ تھیں جبکہ اس کے مطابق انتظامات نظر نہیں آئے۔ اس تمام صورتحال پر پارک ویو سٹی کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا۔

ذرائع کے مطابق بدنظمی کے دوران خواتین کو ہراساں کیے جانے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔ ایک وائرل ویڈیو میں خاتون رپورٹر کو رپورٹنگ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جن کے چہرے پر اچانک ایک کپڑا آ کر لگتا ہے، جس کے بعد وہ واضح طور پر پریشان دکھائی دیتی ہیں۔

پارک ویو سٹی کا یہ مقام اپنے ڈانسنگ فاؤنٹینز کی وجہ سے بھی جانا جاتا ہے، جہاں تالاب کے گرد حفاظتی جنگلے نصب ہیں۔ تاہم وائرل ویڈیوز میں بعض نوجوانوں کو یہ جنگلے اکھاڑتے اور بینچز اٹھا کر تالاب میں پھینکتے دیکھا جا سکتا ہے۔

واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ کئی صارفین نے توڑ پھوڑ اور ہنگامہ آرائی کرنے والوں کو ذمہ دار قرار دیا، جبکہ دیگر نے انتظامیہ کی ناقص منصوبہ بندی پر سوالات اٹھائے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ اگر اتنے بڑے ایونٹ کو سنبھالنے کی صلاحیت نہیں تو اس طرح کی تقریبات منعقد کرنے سے گریز کیا جانا چاہیے۔

Related Posts