افغانستان کے شمالی صوبہ تخار میں سونے کی کان کنی پر ہنگامہ کھڑا ہوگیا، طالبان اور مقامی افراد کے مابین شدید جھڑپوں کے دوران متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
تفصیالت کے مطابق طالبان سے منسلک ایک کان کن کمپنی کے اہلکار طالبان جنگجوؤں کے ہمراہ رہائشی علاقے میں داخل ہوئے تو مقامی افراد نے برہمی کا اظہار کیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ علاقے میں سونے کی تلاش اور کان کنی مقامی آبادی کو آگاہ کیے بغیر شروع کی گئی۔
جھڑپوں کے دوران دونوں جانب متعدد افراد زخمیہ وئے۔ گاؤں پہنچنے والے افراد نے عوام کے مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کیلئے فائرنگ کی، فائرنگ سے کم از کم 1 شخص زخمی ہوا جس پر عوام نے کمپنی کی گاڑیوں کو پتھراؤ کا نشانہ بنایا۔
واضح رہے کہ گزشتہ 4سال کے دوران طالبان کی حکومت افغانستان کے مختلف صوبوں میں کان کنی کو آمدنی کا اہم ذریعہ سمجھتے ہوئے فروغ دے رہی ہے جبکہ افغانستان میں سونے کے علاوہ کوئلہ، لیتھیم اور دیگر قیمتی دھاتوں کی کان کنی بھی کی جاتی ہے۔
دوسری جانب مقامی باشندے اور ناقدین طالبان حکومت کے زیر انتظام معدنی وسائل کی کان کنی سمیت دیگر قومی وسائل میں شفافیت کے فقدان اور بدعنوانی سے متعلق سنگین سوالات اٹھا رہے ہیں۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ قدرتی وسائل سے حاصل کی گئی آمدنی کا مصرف کیا ہے؟ جبکہ یہ آمدنی عوامی ترقی پر خرچ نہیں ہوتی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








