وینیزویلا میں امریکی آپریشن نے سب کو ہلا دیا! میئر نیویارک کی ٹرمپ پر کڑی تنقید

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

وینیزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو امریکی فوجی کارروائی کے دوران گرفتار کیے جانے کے بعد ایک وسیع احتجاج اور شدید تنقید کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ نیو یارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی نے اس کارروائی کو جنگ جیسا عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ امریکی آئین اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

ممدانی نے کہا کہ امریکی فوج کی یہ کارروائی صرف وینیزویلا تک محدود نہیں بلکہ نیو یارک میں بسنے والے ہزاروں وینیزویلائیوں پر بھی براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔ انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بذاتِ خود فون کرکے اس آپریشن کے خلاف اپنی مخالفت کا اظہار بھی کیا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ایک خودمختار ملک پر یکطرفہ حملہ کرنا جنگ کے مترادف ہے اور یہ وفاقی و بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ یہ واضح طور پر ایک نظام حکامت بدلنے کی کوشش ہے اور اس کے اثرات اندرونی سطح پر بھی محسوس ہوں گے۔

امریکی موقف اور عالمی تناظر

امریکی انتظامیہ کے مطابق یہ کارروائی مادورو کے خلاف منشیات سے متعلق الزامات پر کی گئی ہے اور انہیں نیو یارک میں وفاقی عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا تاہم ناقدین جن میں امریکی سیاستدان اور بین الاقوامی حلقے شامل ہیں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایک حکومت کی تبدیلی اور طاقت کا غلط استعمال ہے۔

اطلاعات کے مطابق صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ وینیزویلا کے انتظامی امور میں عبوری کنٹرول رکھے گا اور ملک کے تیل کے ذخائر کی دوبارہ تعمیر کا منصوبہ شروع کرے گا جس پر کئی ممالک اور عالمی رہنماؤں نے شدید تشویش کا اظہار کیا۔

عالمی رائے اور اقوام متحدہ کا ردعمل

دنیا بھر میں اس آپریشن کے خلاف سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ کئی ممالک نے اسے بین الاقوامی قانون اور خودمختاری کی واضح خلاف ورزی قرار دیا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات ایک خطرناک مثال قائم کرتے ہیں اور عالمی امن و سلامتی کو متاثر کر سکتے ہیں۔

مادورو کی گرفتاری پر منقسم ردعمل

امریکی سیاست میں بھی اس کارروائی پر اختلافات سامنے آئے ہیں۔ کچھ رہنماؤں نے کہا کہ یہ کارروائی کانگریس کی منظوری کے بغیر کی گئی جبکہ بعض نے اسے منشیات کے خلاف جنگ میں ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔

نیو یارک کے میئر ظہران ممدانی نے امریکی فوج کی وینیزویلا میں صدر مادورو کی گرفتاری کو جنگ جیسا غیر قانونی اقدام قرار دیا جس نے نہ صرف امریکہ کے آئین بلکہ بین الاقوامی قانون اور خودمختاری کے اصولوں کو بھی چیلنج کیا۔ عالمی رہنماؤں اور اقوام متحدہ نے بھی اس اقدام پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

Related Posts