کراچی میں ٹریفک نظام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی ایک بار پھر سوالیہ نشان بن گئی جب برسوں پہلے چوری ہونے والی موٹر سائیکلوں کے مالکان کو اچانک ای چالان موصول ہونے لگے۔
تازہ ترین واقعے میں ایک شہری نے بتایا کہ اس کی موٹر سائیکل 7 دسمبر 2023 کو لیاقت آباد کے علاقے سے چوری ہوئی تھی۔ واقعے کا مقدمہ بھی بروقت درج کروایا گیا تاہم موٹر سائیکل تاحال برآمد نہیں ہو سکی۔ حیران کن طور پر شہری کو 28 دسمبر 2025 کو ای چالان موصول ہوا جو نیشنل اسٹیڈیم فلائی اوور کے قریب ہیلمٹ نہ پہننے کی خلاف ورزی پر جاری کیا گیا تھا۔
متاثرہ شہری کا کہنا ہے کہ جس موٹر سائیکل کا سراغ پولیس دو سال میں نہ لگا سکی، اسی موٹر سائیکل پر ٹریفک کیمرے نے کارروائی کر لی، جو سسٹم پر کئی سوالات کھڑے کرتا ہے۔ شہری نے پولیس حکام سے اپیل کی ہے کہ موٹر سائیکل کی فوری برآمدگی کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔
اسی نوعیت کا ایک اور واقعہ بھی سامنے آیا ہے جس میں کراچی کے ایک اور شہری نے انکشاف کیا کہ اس کی موٹر سائیکل 21 مارچ 2019 کو ٹیپو سلطان روڈ سے چوری ہوئی تھی اور اس کا مقدمہ بھی درج تھا مگر چھ سال گزرنے کے باوجود موٹر سائیکل برآمد نہ ہو سکی۔ حیرت انگیز طور پر 27 اکتوبر 2025 کو اسی چوری شدہ موٹر سائیکل پر پانچ ہزار روپے کا ای چالان جاری کر دیا گیا جس میں ہیلمٹ نہ پہننے کی خلاف ورزی درج تھی۔
متاثرہ شہری کا کہنا ہے کہ معلومات حاصل کرنے پر پتا چلا کہ اس کی موٹر سائیکل کلفٹن کے علاقے میں کسی جرائم پیشہ شخص کے زیر استعمال ہے مگر پولیس موٹر سائیکل برآمد کرنے کے بجائے الٹا مالک کو چالان بھیج رہی ہے جو سراسر ناانصافی ہے۔
ان واقعات کے بعد شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ اگر برسوں پہلے چوری ہونے والی موٹر سائیکلیں شہر کی سڑکوں پر کھلے عام چل رہی ہیں تو قانون نافذ کرنے والے ادارے انہیں پکڑنے میں کیوں ناکام ہیں؟ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ نہ صرف چوری شدہ گاڑیوں کی فوری برآمدگی یقینی بنائی جائے بلکہ ای چالان کے نظام کی خامیوں کو بھی فوری طور پر درست کیا جائے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








