بس ڈرائیور سے امریکی فورسز کے ہاتھوں اغوا تک۔۔۔ وینزویلا کے مرد آہن نکولس مادورو کی کہانی

تازہ ترین

تازہ ترین

نکولس مادورو، فوٹو ووکل میڈیا

امریکا کے ہاتھوں اغوا ہونے والے 63 سالہ وینزویلا کے مرد آہن نکولس مادورو ایک دہائی سے زائد عرصے تک وینزویلا میں مضبوط گرفت کے ساتھ اقتدار میں رہے۔

تاہم ان کا یہ دور ہفتہ 3 جنوری کی صبح اس وقت اچانک ختم ہو گیا، جب امریکی افواج نے انہیں اور ان کی اہلیہ فرسٹ لیڈی سیلیا فلوریس کو ان کی سرکاری رہائشگاہ سے غیر قانونی طور پر اغوا کرکے وینزویلا سے نیویارک منتقل کر دیا۔ جس کے بعد  امریکی حکام نے اعلان کیا کہ دونوں مغویوں پر امریکا میں منشیات اور اسلحہ سے متعلق الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔

ایسے میں یہ سوالات ہر شخص کے ذہن میں گردش کر رہے ہیں کہ مادورو کون ہیں؟ وہ وینزویلا کے اقتدار تک کیسے پہنچے؟ اور امریکا کے ہاتھوں ان کا اغوا کیسے عمل میں آیا؟ اس حوالے سے اب تک جو معلومات سامنے آئی ہیں، وہ یہ ہیں۔

مادورو کی ابتدائی زندگی
الجریزہ کے مطابق نکولس مادورو 23 نومبر 1962 کو وینزویلا کے دارالحکومت کراکس کے محنت کش علاقے ایل ویلے میں ایک متوسط طبقے کے خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد نکولس مادورو گارسیا ایک ٹریڈ یونین رہنما تھے، جبکہ والدہ ٹریسا ڈی جیسس موروس تھیں۔ ان کی تین بہنیں بھی ہیں، ماریا ٹریسا، جوزفینا اور انیتا مادورو۔

مادورو کی پرورش میں ان کے والد کی سیاست کا گہرا اثر رہا۔ مادورو کے مطابق ان کے دادا دادی سفاردی یہودی نسل سے تعلق رکھتے تھے، جو وینزویلا آنے کے بعد کیتھولک مسیحی مذہب میں داخل ہوئے۔

انہوں نے ایل ویلے کے سرکاری اسکول لیسیو خوسے آوالوس میں تعلیم حاصل کی، جہاں وہ طلبہ سیاست میں سرگرم رہے اور مبینہ طور پر اسٹوڈنٹ یونین کے صدر بھی رہے، تاہم ان کی گریجویشن کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔

اقتدار کی جانب سفر
مادورو کا سیاسی سفر مزدور تنظیموں سے شروع ہوا۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ 1980 کی دہائی کے آغاز میں سوشلسٹ لیگ آف وینزویلا میں شامل ہوئے، جو ایک مارکسسٹ لیننسٹ جماعت تھی۔

1986 میں 24 سال کی عمر میں مادورو کو سوشلسٹ لیگ کے نمائندے کے طور پر کیوبا بھیجا گیا، جہاں انہوں نے ایک سال تک یونین آف ینگ کمیونسٹس کے زیرانتظام سیاسی تربیت حاصل کی۔

واپسی پر انہوں نے کراکس کے میٹرو سسٹم میں بس ڈرائیور کے طور پر کام شروع کیا اور 1991 میں میٹرو ملازمین کی یونین (SITRAMECA) کی بنیاد رکھی اور اس کی قیادت کی۔

1980 اور 1990 کی دہائی میں وہ ٹرانسپورٹ ورکرز یونین میں سرگرم رہے اور مزدور سیاست کے ذریعے آہستہ آہستہ اقتدار کے مراکز تک رسائی حاصل کی۔

2006 میں وکی لیکس کے ذریعے سامنے آنے والی امریکی سفارت خانے کی ایک کیبل میں کہا گیا کہ مادورو سوشلسٹ لیگ کی قومی کمیٹی کے رکن تھے اور انہوں نے مبینہ طور پر امریکا کی میجر لیگ بیس بال کے ایک اسکاؤٹ کی پیشکش ٹھکرا دی تھی۔

وہ وینزویلا کے سابق مرد آہن ہیوگو شاویز کی قیادت سے بے حد متاثر تھے، جو ایک فوجی افسر تھے اور جنہوں نے بدعنوانی کے خلاف بولیویرین تحریک کی قیادت کی۔

1990 کی دہائی کے آغاز میں مادورو نے MBR-200 میں شمولیت اختیار کی اور 1992 کی ناکام بغاوت کے بعد شاویز کی رہائی کے لیے مہم چلائی۔

مادورو کی ملاقات اپنی مستقبل کی اہلیہ سیلیا فلوریس سے اسی دوران ہوئی، جب وہ شاویز کی قانونی ٹیم کی سربراہی کر رہی تھیں، جس نے 1994 میں شاویز کی رہائی ممکن بنائی۔

شاویز کی رہائی کے بعد مادورو نے 1997 میں ففتھ ریپبلک موومنٹ میں شمولیت اختیار کی اور 1998 کے انتخابات میں قومی دستور ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، جبکہ شاویز صدر بنے۔

1999 میں نئے آئین کی تیاری کے دوران مادورو شاویز کے قریبی ساتھی رہے۔ بعد ازاں انہیں وزیر خارجہ مقرر کیا گیا اور اکتوبر 2012 میں، شاویز کی بگڑتی صحت کے دوران مادورو نائب صدر بن گئے۔

کراکس میں اقتدار کا استحکام
دسمبر 2012 میں کینسر کے علاج کے لیے کیوبا روانگی سے قبل ہیوگو شاویز نے ٹیلی وژن خطاب میں مادورو کو اپنا سیاسی جانشین نامزد کیا۔

شاویز کی وفات کے بعد اپریل 2013 کے انتخابات میں مادورو معمولی فرق سے صدر منتخب ہوئے۔

اپنی صدارت کے آغاز میں انہوں نے امریکی سفارتکاروں کو ملک بدر کیا، امریکا کو تاریخی دشمن قرار دیا اور شاویز کی موت کا الزام بھی واشنگٹن پر عائد کیا۔ انہوں نے اپوزیشن کو فاشسٹ کہہ کر مسترد کیا۔

فرسٹ لیڈی سیلیا فلوریس نے بعد میں اٹارنی جنرل اور پارلیمان کی سربراہی سمیت کئی اہم عہدے سنبھالے۔

مادورو کو شاویز سے ورثے میں فوجی قیادت، سپریم کورٹ اور سرکاری میڈیا سمیت اہم اداروں پر مضبوط کنٹرول ملا، مگر وہ شاویز جیسی کرشماتی شخصیت ثابت نہ ہو سکے۔

ملکی معیشت بگڑتی چلی گئی اور اپوزیشن، جس میں ماریا کورینا ماچادو بھی شامل تھیں (جنہیں 2025 کا نوبل امن انعام دیا گیا) نے ملک گیر احتجاج شروع کیے۔

2018 کے انتخابات میں مادورو بلا مقابلہ فاتح قرار دیے گئے، مگر امریکا سمیت 45 ممالک نے انہیں تسلیم نہ کیا۔ کئی اپوزیشن رہنماؤں کو جیل یا جلاوطنی کا سامنا کرنا پڑا۔

2024 کے انتخابات میں بھی مادورو کو فاتح قرار دیا گیا، مگر شفافیت پر شدید سوالات اٹھے، جس کے بعد ایک بار پھر ملک گیر احتجاج اور سخت حکومتی کارروائیاں دیکھنے میں آئیں۔

ٹرمپ نے مادورو کو ہٹانے کا فیصلہ کیوں کیا؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسری مدتِ صدارت کے آغاز کے بعد واشنگٹن نے مادورو کے خلاف دباؤ مزید بڑھا دیا۔

امریکا نے وینزویلا پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا، مادورو کے سر کی قیمت دگنی کر دی اور ان کے اہلِ خانہ پر بھی پابندیاں لگا دیں۔

ستمبر سے امریکی افواج نے وینزویلا کے ساحل کے قریب بحری کارروائیاں شروع کیں، جن پر وائٹ ہاؤس نے منشیات اسمگلنگ کے الزامات عائد کیے۔

بالآخر ہفتے کے روز صورتحال نقطۂ عروج پر پہنچ گئی، جب امریکی اسپیشل فورسز نے وینزویلا کی سالمیت اور قومی خودمختاری کو پامال کرتے ہوئے مادورو اور ان کی اہلیہ کو اغوا کرکے امریکا منتقل کر دیا، جہاں ان کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا۔

Related Posts