بھارتی ریاست تمل ناڈو کے ترونیل ویلی ضلع کی خصوصی پوکسو عدالت نے ایک شخص کو اپنی 14 سالہ بیٹی کے ساتھ متعدد بار جنسی زیادتی کرنے اور اسے حاملہ کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی ہے۔ عدالت نے یہ فیصلہ 5 جنوری 2026 کو سنایا۔
ملزم ایک مزدور ہے جس کی دو شادیاں ہوئیں۔ دوسری بیوی سے اس کی دو بیٹیاں ہیں۔ گزشتہ سال جنوری 2025 میں ماں نے اپنی ایک بیٹی کے جسم میں غیر معمولی تبدیلیاں دیکھیں تو اسے اسپتال لے گئیں۔ معائنے پر ڈاکٹروں نے بتایا کہ لڑکی حاملہ ہے۔یہ سن کر ماں اور بیٹی دونوں شدید صدمے میں مبتلا ہو گئیں۔
تفصیلی پوچھ گچھ پر لڑکی نے انکشاف کیا کہ اس کا اپنا باپ 2024 سے اس کے ساتھ جنسی زیادتی کر رہا تھا۔ ماں نے فروری 2025 میں خواتین پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی۔ پولیس نے فوری کیس درج کر کے تفتیش شروع کی۔ اس دوران متاثرہ نابالغ لڑکی نے ایک بچے کو جنم دیا۔ بچے کے ڈی این اے ٹیسٹ سے واضح ہوا کہ حیاتیاتی باپ کوئی اور نہیں بلکہ ملزم ہی ہے۔
کیس کی سماعت ترونیل ویلی کی پوکسو کورٹ میں ہوئی۔ڈی این اے رپورٹ اور دیگر ٹھوس شواہد کی بنیاد پر جج سریش کمار نے ملزم کو موت کی سزا سنائی اور ساتھ ہی 25 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا۔ عدالت نے تمل ناڈو حکومت کو حکم دیا کہ متاثرہ لڑکی کو 10 لاکھ روپے معاوضہ ادا کیا جائے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ صرف دس دن قبل ترونیل ویلی ضلع کے علاقے نانگونری میں بھی بالکل اسی نوعیت کے ایک کیس میں عدالت نے ایک باپ کو نابالغ بیٹی سے زیادتی اور حمل ٹھہرانے پر سزائے موت سنائی تھی۔
تمل ناڈو میں پوکسو ایکٹ 2012 کے تحت بچوں کے جنسی جرائم کے مقدمات کی فوری سماعت کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کی گئی ہیں۔ یہ عدالتیں چنئی، مدورائی، کوئمبٹور اور سیلم سمیت کئی شہروں میں ڈسٹرکٹ عدالتوں کے اندر فاسٹ ٹریک یا خواتین عدالتوں کی شکل میں کام کر رہی ہیں اور ان کا بنیادی مقصد ایسے حساس مقدمات کو تیزی سے نمٹانا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








