امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس کی ذاتی رہائش گاہ پر ایک غیر معمولی واقعہ پیش آیا جس میں ایک شخص نے گھر کی کئی کھڑکیاں توڑیں اور املاک کو نقصان پہنچایا۔ واقعے کے وقت وینس اور ان کا خاندان گھر پر موجود نہیں تھا۔پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں نے ملزم کو فوری طور پر حراست میں لے لیا۔
یہ حملہ 5 جنوری 2026 کی صبح پیش آیا جب سیکرٹ سروس اور ریاستی پولیس کو مقامی رہائش گاہ کے باہر شور کی اطلاع ملی۔ موقع پر پہنچ کر اہلکاروں نے ایک 26 سالہ شخص ولیم ڈی فور کو حراست میں لیا جس پر الزام ہے کہ اس نے ہتھوڑے سے کئی کھڑکیاں توڑیں اور ایک سیکیورٹی گاڑی کو بھی نقصان پہنچایا۔
حملے کے وقت امریکی نائب صدر وینس اس وقت واشنگٹن ڈی سی میں تھے کیونکہ وہ اپنے سرکاری دورے کے بعد پہلے ہی واپس جا چکے تھے۔ خوش قسمتی سے واقعے میں کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے لیکن املاک کو تقریباً 28,000 امریکی ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔
نائب صدر جے ڈی وینس نے واقعے پر ٹوئٹر (ایکس) پر اپنے پیغام میں لکھا کہ میں سب کی نیک تمناؤں کا مشکور ہوں۔ جہاں تک میری سمجھ آیا ہے کہ ایک پاگل شخص نے کھڑکیوں پر ہتھوڑا مار کر گھر میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ میں سیکرٹ سروس اور سنسناٹی پولیس کی فوری کارکردگی کا مشکور ہوں۔ ہم اس وقت گھر پر موجود نہیں تھے کیونکہ ہم پہلے ہی ڈی سی واپس جا چکے تھے۔
I appreciate everyone’s well wishes about the attack at our home. As far as I can tell, a crazy person tried to break in by hammering the windows. I’m grateful to the secret service and the Cincinnati police for responding quickly.
We weren’t even home as we had returned…
— JD Vance (@JDVance) January 5, 2026
انہوں نے میڈیا اور عوام سے درخواست کی ہے کہ ہمارے بچوں کو عوامی خدمت کی حقیقتوں سے بچانے کی کوشش کریں، ہمارے گھر کی تصاویر جس میں کھڑکیوں میں سوراخ ہیں دکھانا ضروری نہیں ہے۔وینس نے واضح کیا کہ گھریلو نقصان والی تصاویر شائع کرنا ان کی فیملی، خصوصاً بچوں پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
تحقیقات اور قانونی کارروائی
سیکرٹی سروس اور پولیس نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ اس میں تخریب کاری، غیر قانونی داخلہ، اور وفاقی اہلکاروں کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے جیسے الزامات شامل کیے جا سکتے ہیں۔
یہ واقعہ امریکہ میں سیاسی شخصیات اور ان کے خاندانوں کے تحفظ کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش کے درمیان پیش آیا ہے خاص طور پر حالیہ برسوں میں اعلیٰ عہدے داروں پر بڑھتے ہوئے حملوں کے پس منظر میں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








