کیا بیرسٹر سیف عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ میں مفاہمت کیلئے سرگرم؟ نئے انکشافات سامنے آگئے

تازہ ترین

تازہ ترین

بیرسٹر سیف
(فوٹو: ڈان)

پاکستان تحریکِ انصاف کے سینئر رہنما بیرسٹر محمد علی سیف بانی پی ٹی آئی عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین مفاہمت کیلئے مبینہ طور پر سرگرم ہیں، نئے انکشافات سامنے آگئے۔

حال ہی میں سینئر صحافی انصار عباسی کی رپورٹ میں یہ انکشاف سامنے آیا کہ بیرسٹر محمد علی سیف کے بقول عمران خان نے انہیں ہدایت دی اور آخری ہدایت کے مطابق بیرسٹر سیف پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین روابط میں سہولت کاری کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ وہ عمران خان اور اہلیہ بشریٰ بی بی دونوں کی رہائی چاہتے ہیں اور اس مقصد کیلئے ہر ممکن کردار ادا کریں گے جبکہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ وہ کئی دہائیوں سے روابط میں ہیں اور انہیں اپنے قائد عمران خان کی مدد کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔

گزشتہ ماہ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر بھی بیرسٹر سیف نے تحریر کیا کہ پی ٹی آئی اور دفاعی اداروں کے درمیان تلخی کسی صورت ملک و قوم کے مفاد میں نہیں۔ دونوں فریقین کو تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے، کشیدگی کم کرنے کیلئے کام کرنا چاہئے اور مسائل کا پائیدار حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کرنا چاہئے۔

سوشل میڈیا پوسٹ میں بیرسٹر سیف نے کہاکہ ایک دوسرے کیخلاف مسلسل تنقید نہ صرف کشیدگی میں اضافہ کرتی ہے بلکہ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ وسیع تر قومی مفاد میں ناگزیر ہے کہ نفرت کی آگ بجھائی جائے اور مفاہمت و تعاون کا راستہ اختیار کیا جائے۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ایسے وقت میں جب ملک سنگین معاشی و سیاسی چیلنجز سے دوچار ہے، اتحاد، اتفاق رائے اور یکجہتی کی اشد ضرورت ہے۔ باہمی محاذ آرائی اور سڑکوں پر تصادم صرف دشمن قوتوں کو مضبوط کرتا ہے اور اس سے پاکستان کو نقصان ہوگا۔

بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کارکنان اور ریاستی اداروں کے اہلکاروں کو ایک دوسرے کی کردارکشی سے گریز کرنا چاہئے۔ اشتعال انگیز، نفرت انگیز اور بے بنیاد بیانات سے بچنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ میں ہمیشہ دونوں جانب کے درمیان مفاہمت اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کا خواہاں رہا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تمام تنازعات کا واحد اور بہترین حل بامعنی مذاکرات، صبر اور سیاسی دانائی سے ممکن ہے۔ باہمی دشمنی میں اضافہ براہِ راست ملک اور اس کے عوام کو نقصان پہنچا رہا ہے، اور اسے ختم کرنے کیلئے دانشمندانہ فیصلے ناگزیر ہیں۔‘‘

Related Posts