ایک پسماندہ گاؤں سے دبئی تک، وہ سب کچھ جو آپ فاطمہ جتوئی کے متعلق جاننا چاہتے ہیں

تازہ ترین

تازہ ترین

ٹک ٹاکر فاطمہ جتوئی کی مبینہ فحش ویڈیو لیک ہونے کا معاملہ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے، جس کے باعث لوگ بڑی تعداد میں اس ویڈیو کی تلاش میں نظر آ رہے ہیں، کیونکہ فاطمہ جتوئی مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ٹرینڈ کر رہی ہیں۔

 ابھی لوگ عمیری کے معاملے کے اثر سے نکل بھی نہیں پائے تھے کہ ایک اور نام فاطمہ جتوئی اچانک منظرِ عام پر آ گیا۔ جب سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ان کا نام گردش کرتا دیکھا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ ایک ٹک ٹاک کریئیٹر ہیں۔

دستیاب معلومات کے مطابق فاطمہ جتوئی ماضی میں اپنی والدہ کے ساتھ ایک گاؤں میں رہتی تھیں، تاہم دولت اور شہرت کی جستجو انہیں دبئی لے گئی۔ اب ایک مبینہ لیک ویڈیو نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی ہے۔

اپنے بیان میں فاطمہ جتوئی نے وضاحت کی کہ یہ ویڈیو جان بوجھ کر ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے اور ان کے فالوورز کو گمراہ کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔

انہوں نے اپنے مداحوں اور سوشل میڈیا صارفین سے اپیل کی کہ وہ اس ویڈیو پر یقین نہ کریں، نہ ہی اسے شیئر کریں، بلکہ پلیٹ فارم انتظامیہ کو رپورٹ کریں تاکہ اس کی مزید تشہیر روکی جا سکے۔

ڈیجیٹل سکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ حالیہ برسوں میں ڈیپ فیک اور اے آئی سے تیار کردہ مواد کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے نہ صرف مشہور شخصیات بلکہ عام صارفین بھی متاثر ہو رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ایسے مواد کا نشانہ بننے والے افراد کو فوری طور پر اسے رپورٹ کرنا چاہیے، شواہد محفوظ رکھنے چاہئیں اور اپنی قانونی حقوق اور ساکھ کے تحفظ کے لیے متعلقہ قانونی اداروں سے رابطہ کرنا چاہیے۔

Related Posts