پسند کی شادی واقعی جرم ہے؟ منڈی بہاؤالدین میں سسرالیوں نے داماد کی آنکھیں پھوڑ دیں

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ اسکرین گریب)

پنجاب کے قدیم تاریخی شہر منڈی بہاؤالدین سے ایک انتہائی تکلیف دہ اور بھیانک واقعہ سامنے آیا ہے جہاں 25 سالہ نوجوان علی حیدر نے 20 سالہ لڑکی کنزہ سے پسند کی شادی کی تھی اور اسی جرم کی پاداش میں لڑکی کے والد اور بھائیوں نے مل کر علی حیدر پر چھریوں سے شدید اور بے رحمانہ حملہ کر دیا۔

لڑکی کے والد اور بھائیوں نے علی حیدر کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ خاص طور پر آنکھوں، چہرے اور ناک کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں علی حیدر کی دونوں آنکھیں شدید متاثر ہوئیں اور امکان ہے کہ وہ اپنی بینائی مکمل طور پر کھو چکے ہوں۔

واقعے کے فوراً بعد زخمی نوجوان کو شدید حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ اب بھی تشویشناک حالت میں زیر علاج ہے۔

یہ ویڈیو اسپتال میں لی گئی ہے جس میں علی حیدر کا چہرہ پٹیوں سے لپٹا ہوا ہے اور تکلیف کی شدت صاف جھلک رہی ہے۔

یہ سانحہ ایک بار پھر ہمارے معاشرے میں پسند کی شادی کرنے والوں کے ساتھ ہونے والے رویے پر سنگین سوال اٹھاتا ہے۔ کیا رضامندی اور محبت کی بنیاد پر کی گئی شادی اتنا بڑا جرم ہے کہ اس کی سزا آنکھیں نکالنے جیسی وحشیانہ کارروائی تک پہنچ جائے؟

Related Posts