پنجاب کے ضلع قصور میں واقع پھول نگر پاکستان کے تاریخی قصبوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ قصبہ لاہور‑ملتان روڈ این 5 پر پتوکی سے تقریباً 24 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ تاریخی طور پر یہ قصبہ دو آبادیوں کے ملاپ سے وجود میں آیا۔ پہلی آبادی میاں کا موڑ کہلائی جسے ایک سکھ موڑ سنگھ نے آباد کیا۔ بعد میں اس کی نسل مسلمان ہوئی اور اسے میاں کا موڑ کے نام سے جانا گیا۔
بابا بھائی پھیرُو کون تھے؟

سکھ روایات کے مطابق اسی دور میں یہاں ایک گھی کا تاجر سنگتیا رہتا تھا جس کا کاروبار وسیع تھا اور مال دور دور تک جاتا تھا۔ ایک دن اسے کچھ گھی کرتارپور بھیجنا تھا اور اس مقصد کے لیے اس نے گھی مشکیزوں میں ڈال رکھا۔ اچانک وہاں ایک سکھ گرو ہر رائے کے مرید پہنچ گئے اور گھی خریدنے کی پیشکش کی۔ سنگتیا نے انہیں گھی دے دیا اور مشکیزے خالی دکان میں لٹکا دیے۔ اگلے دن وہ حیران رہ گیا کہ مشکیزے پہلے کی طرح بھرے ہوئے تھے۔
سنگتیا نے اس واقعے کی تصدیق کے لیے گرو ہر رائے کے پاس رجوع کیا اور اس کے بعد گرو نے اسے سکھ مذہب میں داخل کیا اور نیا نام بھائی پھیرُو رکھا۔ بعد میں بھائی پھیرُو محصولات جمع کرنے کے کام پر مامور ہوئے اور ان کی دیانتداری کے باعث انہیں سچا کا خطاب دیا گیا۔ ان کا انتقال اسی مقام پر ہوا اور یہاں ان کا سمادھ بنا۔
گوردوارہ بھائی پھیرُو

بعد میں یہاں ایک گوردوارہ تعمیر کیا گیا جسے گوردوارہ سنگت صاحب کہا جاتا ہے۔ 1922 میں یہ گوردوارہ شرومنی گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے قبضے میں آیا تاہم 1924 میں دوبارہ تنازع ہوا اور کئی گرفتاریاں ہوئیں۔ بالآخر 1931 میں عدالتی فیصلہ کے بعد یہ گوردوارہ کمیٹی کے حوالے کر دیا گیا۔ یہ گوردوارہ آج بھی بھائی پھیرُو کے انار کلی بازار میں موجود ہے جس میں تین عمارتیں شامل ہیں جس میں اصلی گوردوارہ، بھائی پھیرُو کی سمادھی (آخری آرام گاہ) اور ایک چھوٹی عمارت موجود ہے۔
پھول نگر کا تاریخی پس منظر

بستی کا نام ابتدا میں بھائی پھیرُو تھا مگر بعد میں مقامی سیاستدان رانا پھول محمد کے اعزاز میں پھول نگر رکھ دیا گیا۔ یہاں قیام پاکستان سے قبل ہندو اور سکھ آبادی رہائش پذیر تھی اور ایک مندر بھی موجود تھا۔ 1947ء میں ہندو اور سکھ مہاجر ہوگئے اور ان کی جگہ زیادہ تر مسلمان مہاجرین خصوصاً راجپوت آباد ہوئے۔
پھول نگر نہ صرف ایک قصوری بستی ہے بلکہ یہ بابا بھائی پھیرُو کے روحانی ورثے کا بھی نمائندہ مقام ہے۔ یہاں موجود گوردوارہ اور تاریخی یادگاریں سکھ مذہب اور پنجاب کے مشترکہ ثقافتی ورثے کی عکاسی کرتی ہیں۔ یہ علاقہ نہ صرف مذہبی لحاظ سے بلکہ تاریخی اور ثقافتی لحاظ سے بھی اہمیت رکھتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








